حدیث نمبر: 634
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا لَبِسَ حُلَّةً مِثْلَ حُلَّةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ أَتَى أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَنِي أَيَّ أَهْلِ بَيْتٍ شِئْتُ اسْتَطْلَعْتُ ، فَقَالُوا : عَهْدُنَا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَأْمُرُ بِالْفَوَاحِشِ . قَالَ : فَأَعَدُّوا لَهُ بَيْتًا وَأَرْسَلُوا رَسُولًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرُوهُ ، فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ : " انْطَلِقَا إِلَيْهِ ، فَإِنْ وَجَدْتُمَاهُ حَيًّا فَاقْتُلَاهُ ، ثُمَّ حَرِّقَاهُ بِالنَّارِ ، وَإِنْ وَجَدْتُمَاهُ [ مَيِّتًا ] فَقَدْ كُفِيتُمَاهُ ، وَلَا أَرَاكُمَا إِلَّا قَدْ كُفِيتُمَاهُ ، فَحَرِّقَاهُ " ، فَأَتَيَاهُ فَوَجَدَاهُ قَدْ خَرَجَ مِنَ اللَّيْلِ يَبُولُ فَلَدَغَتْهُ حَيَّةٌ أَفْعَى فَمَاتَ ، فَحَرَّقَاهُ بِالنَّارِ . ثُمَّ رَجَعَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَاهُ الْخَبَرَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ . وَأَخْرَجَ الْبُخَارِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ مِنْهُ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ " الْحَدِيثَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلہ جیسا حلہ پہنا ، پھر وہ مدینہ منورہ کے ایک گھرانے ( یا محلے ) میں آیا اور بولا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ ہدایت کی ہے کہ میں جس بھی گھر میں چاہوں جا سکتا ہوں ، اُن لوگوں نے کہا: ہم نے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بھی یہی چیز پائی ہے کہ آپ کسی فحش چیز کا حکم نہیں دیتے ہیں ، پھر اُن میں سے کسی نے یہ کہا: تم لوگ اس کے ٹھہرنے کا بندوبست کرو ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کوئی قاصد بھیجو ! جب اُنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا : تم دونوں اُس کی طرف جاؤ ! اگر وہ تمہیں زندہ مل گیا ، تو اُسے قتل کر کے اسے آگ میں جلا دینا اور اگر تم نے اُسے ( مردہ ) پایا ، تو اُس کے حوالے سے تمہاری کفایت ہو چکی ہو گی ، اور تم دونوں کے بارے میں میرا یہی اندازہ ہے کہ اس کے حوالے سے تمہاری کفایت ہو چکی ہو گی ، تو تم اُسے آگ میں جلا دینا ، یہ دونوں حضرات اس شخص کی طرف روانہ ہوئے ، تو اُن دونوں نے یہ صورتحال پائی کہ وہ شخص رات کے وقت پیشاب کرنے کے لیے نکلا تھا ، تو اُسے کسی سانپ نے ڈس لیا اور وہ مر گیا ، تو ان دونوں حضرات نے اُسے آگ کے ذریعے جلا دیا ، پھر یہ دونوں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صورتحال بتائی ، تو نبی اکرم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، امام بخاری رحمہ اللہ اور امام ترمذی نے اس روایت میں سے صرف یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جو شخص میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ الخ ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 634
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 2091»