مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ كَذَبَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: اس شخص کا بیان جو نبی اکرم ﷺ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ : انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي إِلَى صِهْرٍ لَنَا مَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَرِحْنَا بِهَا يَا بِلَالُ - الصَّلَاةَ " . قَالَ : قُلْتُ : أَسْمِعْتَ ذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَغَضِبَ ، وَأَقْبَلَ يُحَدِّثُهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ رَجُلًا إِلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ، فَلَمَّا أَتَاهُمْ قَالَ لَهُمْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَنِي أَنْ أَحْكُمَ فِي نِسَائِكُمْ بِمَا شِئْتُ ، فَقَالُوا : سَمْعًا وَطَاعَةً لِأَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَعَثُوا رَجُلًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّ فُلَانًا جَاءَنَا فَقَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَنِي أَنْ أَحْكُمَ فِي نِسَائِكُمْ ، فَإِنْ كَانَ عَنْ أَمْرِكَ فَسَمْعًا وَطَاعَةً ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ فَأَحْبَبْنَا أَنْ نُعْلِمَكَ ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَعَثَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَقَالَ : " اذْهَبْ [ إِلَى فُلَانٍ ] فَاقْتُلْهُ ، وَأَحْرِقْهُ بِالنَّارِ " ، فَانْتَهَى إِلَيْهِ وَقَدْ مَاتَ وَقُبِرَ ، فَأَمَرَ بِهِ فَنُبِشَ ، ثُمَّ أَحْرَقَهُ بِالنَّارِ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . فَقَالَ : تَرَانِي كَذَبْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ هَذَا . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ " أَرِحْنَا بِهَا يَا بِلَالُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَاهِي الْحَدِيثِ . ¤محمد بن حنفیہ کے صاحبزادے عبداللہ بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے ہمراہ اپنے سسرالی عزیزوں کی طرف گیا ، جن کا تعلق اسلم قبیلے سے تھا اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھتے تھے میں نے انہیں یہ بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” اے بلال ! اس کے ذریعے ہمیں راحت پہنچاؤ ! “ ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد نماز تھی ۔ عبداللہ بن محمد بن حنفیہ بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : کیا آپ نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی خود سنی ہے ؟ تو وہ غصے میں آ گئے اور انہوں نے لوگوں کو یہ بات بیان کرنا شروع کی : ” ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو عربوں کے کسی قبیلے کی طرف بھیجا ، جب وہ شخص اُن لوگوں کے پاس پہنچا ، تو اس نے ان لوگوں سے یہ کہا: بے شک اللہ کے رسول نے مجھے یہ ہدایت کی ہے کہ میں تمہاری خواتین کے بارے میں جو چاہوں فیصلہ دوں ( یعنی جس بھی خاتون کی شادی جس بھی جگہ طے کرنا چاہوں کر دوں ) ان لوگوں نے کہا: ہم اللہ کے رسول کے فرمان کی اطاعت و فرمانبرداری سے کام لیتے ہیں ، پھر انہوں نے ایک شخص کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا ، اُس شخص نے بتایا : فلاں شخص ہمارے ہاں آیا اور اس نے ہم سے یہ کہا: بے شک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ ہدایت کی ہے کہ میں تمہاری خواتین کے بارے میں فیصلہ دوں ( پھر اس قاصد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : ) اگر تو یہ آپ کا حکم ہے ، تو ہم اطاعت و فرمانبرداری سے کام لیتے ہیں اور اگر یہ اس کے علاوہ ہے ، تو ہم نے اس بات کو پسند کیا کہ ہم یہ چیز آپ کے علم میں لے آئیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو بھیجا اور یہ ارشاد فرمایا : تم ( اس فلاں شخص ) کی طرف جاؤ ! اُسے قتل کر دو اور اُسے آگ میں جلا دو ! جب وہ انصاری ، اُس مطلوبہ فرد کے پاس پہنچا ، تو اُس شخص کا انتقال ہو چکا تھا اور اُسے دفنا دیا گیا تھا ، اُس انصاری کے حکم کے تحت اس کی میت کو قبر کھود کر نکالا گیا اور پھر اس انصاری نے آگ کے ذریعے اُسے جلا دیا ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “ ( عبداللہ بن محمد بن حنفیہ بیان کرتے ہیں : پھر مجھے مخاطب کر کے اُن صحابی نے ) کہا: کیا تم میرے بارے میں یہ سجھتے ہو ؟ کہ اس کے بعد بھی ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کروں گا ؟ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس میں سے صرف یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” اے بلال ! ہمیں اس کے ذریعے راحت پہنچاؤ ! “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی ابوحمزہ ثمالی ہے اور وہ شخص ” ضعیف“ ہے اور ” واہی الحدیث “ ہے ۔