مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَسْوَاقِ . باب: بازار کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِجِبْرِيلَ : " أَيُّ الْبِقَاعِ خَيْرٌ ؟ قَالَ : لَا أَدْرِي . قَالَ : فَسَلْ عَنْ ذَلِكَ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ ، فَبَكَى جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، وَلَنَا أَنْ نَسْأَلَهُ ؟ هُوَ الَّذِي يُخْبِرُنَا بِمَا يَشَاءُ . فَعَرَجَ إِلَى السَّمَاءِ ، ثُمَّ أَتَاهُ ، فَقَالَ : خَيْرُ الْبِقَاعِ بُيُوتُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ . قَالَ : فَأَيُّ الْبِقَاعِ شَرٌّ ؟ فَعَرَجَ إِلَى السَّمَاءِ ، ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ : شَرُّ الْبِقَاعِ الْأَسْوَاقُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا : زمین کا کون سا حصہ زیادہ بہتر ہے ؟ انہوں نے جواب دیا مجھے نہیں معلوم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس بارے میں اپنے پروردگار سے دریافت کرنا تو سیدنا جبرائیل رو پڑے اور بولے : اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم اس سے سوال کریں گے ؟ وہ جو چاہتا ہے ہمیں اس کے بارے میں بتا دیتا ہے پھر وہ آسمان کی طرف بلند ہوئے پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے : زمین کا سب سے بہترین حصہ زمین میں موجود اللہ کے گھر ( یعنی مساجد ) ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اور زمین کا کون سا حصہ زیادہ برا ہے ؟ وہ پھر آسمان کی طرف چلے گئے ، پھر واپس آئے اور بتایا : زمین کا سب سے برا حصہ ، بازار ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبید بن واقد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔