مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَسْوَاقِ . باب: بازار کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَكُنْ أَوَّلَ مَنْ يَدْخُلُ السُّوقَ ، وَلَا آخِرَ مَنْ يَخْرُجُ مِنْهَا فَفِيهَا بَاضَ الشَّيْطَانُ وَفَرَّخَ " . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : " فَإِنَّهَا مَعْرَكَةٌ " . أَوْ قَالَ : " مَرْبَضُ الشَّيْطَانِ ، وَبِهَا يَنْصِبُ رَايَتَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي الرِّوَايَةِ الْأُولَى : الْقَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ ، فَإِنْ كَانَ هُوَ الْجَرْمِيَّ فَهُوَ ثِقَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَفِي الثَّانِيَةِ : يَزِيدُ بْنُ سُفْيَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم بازار میں داخل ہونے والے سب سے پہلے فرد نہ بننا اور وہاں سے نکلنے والے سب سے آخری فرد نہ بننا ، ( کیونکہ ) اس ( بازار ) میں شیطان انڈے دیتا اور بچے دیتا ہے “ ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” وہ معرکہ ( یعنی میدان جنگ ) ہے “ راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ” شیطان کے بیٹھنے کی جگہ ہے ، اور یہیں وہ اپنا جھنڈا نصب کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے پہلی روایت میں ایک راوی قاسم بن یزید ہے اگر تو یہ جرمی ہے ، تو پھر یہ ثقہ ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں دوسری روایت میں ایک راوی یزید بن سفیان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔