مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَسْوَاقِ . باب: بازار کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ ؟ قَالَ : " لَا أَدْرِي " . ¤ فَلَمَّا أَتَاهُ جِبْرِيلُ قَالَ : " يَا جِبْرِيلُ ، أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ ؟ قَالَ : لَا أَدْرِي حَتَّى أَسْأَلَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ . قَالَ : فَانْطَلَقَ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَكَثَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ ، ثُمَّ جَاءَ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّكَ سَأَلْتَنِي : أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ ؟ فَقُلْتُ : لَا أَدْرِي ، وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ : أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ ؟ فَقَالَ : أَسْوَاقُهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ هَكَذَا . ¤سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! شہروں میں کون سا حصہ سب سے زیادہ برا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے نہیں معلوم پھر جب سیدنا جبرائیل علیہ اسلام آپ کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا : جبرائیل شہروں میں کون سا حصہ زیادہ برا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : مجھے نہیں معلوم میں اس بارے میں اپنے پروردگار سے دریافت کروں گا راوی بیان کرتے ہیں : پھر سیدنا جبرائیل علیہ السلام چلے گئے پھر جتنا اللہ کو منظور تھا اتنی دیر کے بعد وہ آئے اور بولے : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ نے مجھ سے دریافت کیا تھا شہروں میں کون سا حصہ زیادہ برا ہے ؟ تو میں نے بتایا تھا کہ مجھے نہیں معلوم ، میں نے اپنے پروردگار سے سوال کیا کہ شہروں میں کون سا حصہ زیادہ برا ہے ؟ تو اس نے فرمایا : وہاں کے بازار ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسی طرح نقل کی ہے ۔