مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَسْوَاقِ . باب: بازار کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ أَنْ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ؛ إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ مَوْضِعًا لِلسُّوقِ أَفَلَا تَنْظُرُ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : " بَلَى " . فَقَامَ مَعَهُ حَتَّى جَاءَ مَوْضِعَ السُّوقِ فَلَمَّا رَآهُ أَعْجَبَهُ وَرَكَضَهُ بِرِجْلِهِ وَقَالَ : " نِعْمَ سُوقُكُمْ فَلَا يَنْتَقِضُ ، وَلَا يُضْرَبَنَّ عَلَيْهِ خَرَاجٌ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ أَبِي الْحَسَنِ الْبَرَّادِ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں نے بازار میں ایک جگہ دیکھی ہے اگر آپ اسے ملاحظہ فرما لیں ( تو مناسب ہو گا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے پھر آپ اس کے ساتھ اٹھ کر گئے یہاں تک کہ بازار کی جگہ پر تشریف لے آئے جب آپ نے وہ جگہ دیکھی تو آپ کو وہ جگہ پسند آئی آپ نے اپنا پاؤں وہاں رکھا اور فرمایا : تمہارے بازار کی جگہ اچھی ہے یہ نہ تو ناقص ہو گی اور نہ ہی اس پر خراج عائد ہو گا “ ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے
یہ روایت اس سیاق کے بغیر نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسن بن علی بن حسن ابوحسن براد ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔