مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ كَانَ سَيِّئَ الْحِرْفَةِ . باب: اس شخص کا بیان ، جو خراب کاریگر ہو
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ غَسَّانَ بْنِ الْأَغَرِّ النَّهْشَلِيِّ ، حَدَّثَنَا عَمِّي زِيَادُ بْنُ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِيهِ حُصَيْنِ بْنِ قَيْسٍ أَنَّهُ حَمَلَ طَعَامًا إِلَى الْمَدِينَةِ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ قُلْتُ : رَوَى النَّسَائِيُّ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ وَلَهُ طَرِيقٌ تَأْتِي فِي بَيْعِ الْحَاضِرِ لِلْبَادِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : غسان بن اغرنہشلی بیان کرتے ہیں : میرے چچا زیاد بن حصین نے اپنے والد سیدنا حصین بن قیس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ مدینہ منورہ گئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام نسائی رحمہ اللہ نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم صواف ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ اس روایت کے مختلف طرق آگے چل کر شہری کے دیہاتی کے لئے کوئی چیز فروخت کرنے سے متعلق باب میں آئیں گے اگر اللہ نے چاہا ۔