حدیث نمبر: 6319
وَعَنْ غَسَّانَ بْنِ الْأَغَرِّ النَّهْشَلِيِّ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَدِمَ بِعِيرٍ لَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ ، وَهِيَ تَحْمِلُ طَعَامًا فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا أَعْرَابِيُّ ، مَا تَحْمِلُ ؟ " . قُلْتُ : أُجَهِّزُ قَمْحًا . قَالَ لِي : " مَا تُرِيدُ ؟ " . قُلْتُ : أُرِيدُ بَيْعَهُ فَمَسَحَ رَأْسِي ، وَقَالَ : " أَحْسِنُوا مُبَايَعَةَ الْأَعْرَابِيِّ " . ¤
محمد محی الدین

غسان بن اغر نہشلی بیان کرتے ہیں میرے والد نے مجھے اپنے والد کے حوالے سے یہ بات بیان کی ہے کہ وہ اپنے اونٹ کو لے کر مدینہ منورہ آئے وہ اس پر اناج لاد کر لائے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان سے ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا : اے دیہاتی ! تم نے کیا لادا ہوا ہے ؟ میں نے کہا: میں نے گندم تیار کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کیا چاہتے ہو ؟ میں نے عرض کی : میں اسے فروخت کرنا چاہتا ہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور ( لوگوں سے ) فرمایا : دیہاتی کے ساتھ اچھی طرح سے سودا کرنا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6319
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5294)»