حدیث نمبر: 627
وَعَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عَمِّهِ قَالَ : انْطَلَقْتُ أَنَا وَحُصَيْنُ بْنُ سَبْرَةَ وَعُمَرُ بْنُ مُسْلِمٍ إِلَى زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، فَلَمَّا جَلَسْنَا إِلَيْهِ قَالَ لَهُ حُصَيْنٌ : لَقَدْ لَقِيتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيرًا . قَالَ يَزِيدُ بْنُ حَيَّانَ : حَدَّثَنَا زَيْدٌ فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ قَالَ : بَعَثَ إِلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ ، فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ : مَا أَحَادِيثُ تُحَدِّثُ بِهَا وَتَرْوِيهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا نَجِدُهَا فِي كِتَابِ اللَّهِ ؟ تُحَدِّثُ أَنَّ لَهُ حَوْضًا فِي الْجَنَّةِ قَالَ : [ قَدْ ] حَدَّثَنَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَعَدَنَاهُ ، فَقَالَ : كَذَبْتَ ، وَلَكِنَّكَ شَيْخٌ قَدْ خَرِفْتَ . قَالَ : إِنِّي قَدْ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ ، وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَذَبَ عَلِيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " ، وَمَا كَذَبْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ابوحیان تیمی نے اپنے چچا کا یہ بیان نقل کیا ہے : میں ، حصین بن سبرہ اور عمر بن مسلم ، سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، جب ہم اُن کے پاس بیٹھ گئے تو حصین نے اُن سے کہا: اے سیدنا زید ! آپ نے بہت ہی بھلائی حاصل کی ہے ، یزید بن حیان بیان کرتے ہیں : اس محفل میں سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتایا : عبداللہ بن زیاد نے مجھے بلوایا ، میں اُس کے پاس گیا ، تو وہ بولا: وہ احادیث کیا ہیں ؟ جو آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کرتے ہیں اور روایت کرتے ہیں ، لیکن ہمیں وہ اللہ کی کتاب میں نہیں ملتی ہیں ، آپ یہ بات بیان کرتے ہیں کہ جنت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حوض ہے ، تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اُس کے بارے میں اللہ کے رسول نے ہمیں بتایا ہے اور آپ نے اس کے بارے میں ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہے ، تو عبداللہ بن زیاد بولا: آپ جھوٹ بول رہے ہیں ، آپ ایک بوڑھے ہیں جو خرافات بیان کر رہے ہیں ، تو سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے اپنے ان دو کانوں کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا ، اور میرے دل نے اُسے محفوظ رکھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “ ( پھر سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی جھوٹی بات منسوب نہیں کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 627
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 366/4 ، 367 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 5021 ، اورده المؤلف فى زوائد المسند 242 اورده المؤلف فى كشف الاستار 217»