مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ : أَيُّ الْكَسْبِ أَطْيَبُ ؟ باب: کون سی کمائی زیادہ پاکیزہ ہے ؟
حدیث نمبر: 6210
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْكَسْبِ أَطْيَبُ ؟ قَالَ : " عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ ، وَكُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی یا رسول اللہ ! کون سی کمائی زیادہ پاکیزہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : آدمی کا اپنے ہاتھ کے ذریعے کام کر کے ( کمانا ) اور ہر جائز سودا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے وہ ثقہ ہے لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔