مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ : أَيُّ الْكَسْبِ أَطْيَبُ ؟ باب: کون سی کمائی زیادہ پاکیزہ ہے ؟
وَعَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ خَالِهِ قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أَفْضَلِ الْكَسْبِ ؟ فَقَالَ : " بَيْعٌ مَبْرُورٌ ، وَعَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ وَقَالَ : عَنْ خَالِهِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ . ¤ وَالْبَزَّارُ كَأَحْمَدَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، وَجُمَيْعٌ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَقَالَ الْبُخَارِيُّ : فِيهِ نَظَرٌ . ¤جمیع بن عمیر اپنے ماموں کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ فضیلت والی کمائی کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : جائز سودا اور آدمی کا اپنے ہاتھ کے ذریعے کمائی کرنا ۔
یہ روایت امام احد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے ۔ انہوں نے اپنے ماموں سیدنا ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کے حوالے سے
یہ روایت نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اسے امام أحمد کی طرح نقل کیا ہے تاہم انہوں نے یہ کہا: ہے جمیع بن عمیر کے حوالے سے ان کے چچا سے منقول ہے جمیع نامی راوی کو ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس میں غور و فکر کی گنجائش ہے ۔