مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْخِتَانِ . باب: ختنہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6209
وَفِي رِوَايَةٍ لِلطَّبَرَانِيِّ أَيْضًا قَالَ : دُعِيَ عُثْمَانُ إِلَى طَعَامٍ ، فَقِيلَ لَهُ : هَلْ تَدْرِي مَا هَذَا ؟ هَذَا خِتَانُ جَارِيَةٍ ، فَقَالَ : هَذَا شَيْءٌ مَا كُنَّا نَرَاهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ . ¤ وَرِجَالُ الْأَوَّلِ فِيهِمْ [ مُحَمَّدُ بْنُ ] إِسْحَاقَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . وَرِجَالُ الثَّانِي فِيهِمْ أَبُو حَمْزَةَ الْعَطَّارُ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ . ¤محمد محی الدین
امام طبرانی کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو کھانے کی دعوت دی گئی ان سے کہا: گیا کیا آپ جانتے ہیں ؟ یہ کس چیز کا کھانا ہے ؟ یہ ایک لڑکی کے ختنے کا کھانا ہے ، تو انہوں نے فرمایا : یہ ایک ایسی چیز ہے ، جو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہیں دیکھی تو انہوں نے وہ کھانا کھانے سے انکار کر دیا ۔ پہلی روایت کے رجال میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے جبکہ دوسری روایت کے رجال میں ایک راوی ابوحمزہ عطار ہے ، جسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔