مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ كَذَبَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: اس شخص کا بیان جو نبی اکرم ﷺ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرے
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : مَا يَمْنَعُنِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ لَا أَكُونَ أَوْعَى أَصْحَابِهِ عَنْهُ ، وَلَكِنِّي أَشْهَدُ لَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ يَعْنِي قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ عَلَيَّ كَذِبًا فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتًا فِي النَّارِ " . ¤ رَوَاهُمَا أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ . ¤ وَفِي رِوَايَةِ الْبَزَّارِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ وَكَذَلِكَ أَبُو يَعْلَى ، وَهُوَ حَدِيثٌ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَالطَّرِيقُ الْأَوَّلُ فِيهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ یہ فرمایا کرتے تھے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث روایت کرنے میں یہ چیز میرے لئے رکاوٹ نہیں بنتی ہے کہ میں آپ کے اصحاب سے زیادہ بہتر طور پر آپ کی باتوں کو محفوظ کرنے والا نہیں ہوں لیکن میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص میری طرف ایسی بات منسوب کرے ، جو میں نے نہ کہی ہو ، تو اسے جہنم میں اپنے ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “ ایک روایت میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں موجود گھر تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “
یہ دونوں روایات امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہیں ۔ امام بزار کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “ امام ابویعلیٰ نے بھی اسی طرح روایت نقل کی ہے اور یہ ایسی حدیث ہے جس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، پہلے والی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے وہ ضعیف ہے ، ویسے اُسے ثقہ قرار دیا گیا ہے ۔