حدیث نمبر: 616
وَعَنْ دُجَيْنٍ أَبِي الْغُصْنِ قَالَ : دَخَلْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قُلْتُ : حَدِّثْنِي عَنْ عُمَرَ ، فَقَالَ : لَا أَسْتَطِيعُ ، أَخَافُ أَنْ أَزَيِدَ أَوْ أَنْ أَنْقُصَ ، كُنَّا إِذَا قُلْنَا لِعُمَرَ : حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : أَخَافُ أَنْ أَزِيدَ حَرْفًا أَوْ أَنْتَقِصَ حَرْفًا ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ فَهُوَ فِي النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . وَفِيهِ دُجَيْنُ بْنُ ثَابِتٍ أَبُو الْغُصْنِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، لَيْسَ بِشَيْءٍ . ¤
محمد محی الدین

دجین ابوغصن بیان کرتے ہیں : میں مدینہ منورہ میں داخل ہوا ، میری ملاقات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے غلام اسلم سے ہوئی ، تو میں نے کہا: آپ مجھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کریں ، تو اسلم نے کہا: میں ایسا نہیں کر سکتا ، کیونکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میں کوئی اضافہ یا کمی کر دوں گا ، جب ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ کہتے تھے آپ ہمیں اللہ کے رسول کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کریں ، تو وہ یہ فرماتے تھے : مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میں کوئی حرف زیادہ کر دوں گا ، یا کوئی حرف کم کر دوں گا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے گا ، وہ جہنم میں جائے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے گا اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “ اس کی سند میں ایک راوی دجین بن ثابت ابوغصن ہے اور وہ ضعیف ہے ، وہ کوئی چیز نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 616
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف، ولکن الحدیث صحیح لغیرہ بوجہ شواہد
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 46/12 ، 47 اخرجه الامام أبو يعلى فى مسنده 254 اورده المؤلف فى زوائد المسند 233 اورده المؤلف فى المقصد العلى 69»