مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابُ الدَّعْوَةِ فِي الْوَلِيمَةِ وَالْإِجَابَةِ . باب: ولیمے کی دعوت کرنا اور اس کو قبول کرنا
حدیث نمبر: 6163
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ دُعِيتُ إِلَى كُرَاعٍ لَأَجَبْتُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمِّلِ وَثَّقَهُ ابْنُ سَعْدٍ ، وَابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ : يُخْطِئُ . وَابْنُ حِبَّانَ فِي رِوَايَتَيْنِ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر مجھے ایک پائے کی دعوت دی جائے تو میں وہ قبول کر لوں گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مؤمل ہے ، جسے ابن سعد اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے وہ فرماتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ابن حبان سے اس بارے میں دو روایات منقول ہیں ۔ ایک جماعت نے اس راوی کو ضعیف کہا: ہے ۔