مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابُ الدَّعْوَةِ فِي الْوَلِيمَةِ وَالْإِجَابَةِ . باب: ولیمے کی دعوت کرنا اور اس کو قبول کرنا
حدیث نمبر: 6162
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : إِنْ كَانَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْعَوَالِي لَيَدْعُو النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نِصْفَ اللَّيْلِ عَلَى خُبْزِ الشَّعِيرِ فَيُجِيبُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو مُسْلِمٍ قَائِدِ الْأَعْمَشِ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ . وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اگر نواحی علاقے کا رہنے والا کوئی شخص اگر نصف رات کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کی روٹی کھانے کے لئے بلاتا تھا تو آپ اس کی دعوت قبول کر لیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابومسلم ہے ، جو اعمش کو ساتھ لے کے چلا کرتا تھا ابن حبان نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے وہ فرماتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔