حدیث نمبر: 6159
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ أَنَّهُ دُعِيَ إِلَى مَأْدُبَةٍ فَقَعَدَ صَائِمًا فَجَعَلَ النَّاسُ يَأْكُلُونَ ، وَلَا يَطْعَمُ ، قِيلَ لَهُ : وَاللَّهِ لَوْ عَلِمْنَا أَنَّكَ صَائِمٌ مَا دَعَيْنَاكَ ، قَالَ : لَا تَقُولُوا ذَاكَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَجِبْ أَخَاكَ ، فَإِنَّكَ مِنْهُ عَلَى اثْنَتَيْنِ إِمَّا خَيْرٌ فَأَحِقَّ مَا شَهِدْتَهُ ، وَإِمَّا غَيْرُهُ فَتَنْهَاهُ عَنْهُ وَتَأْمُرُهُ بِالْخَيْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہیں کھانے کی دعوت دی گئی وہ بیٹھ گئے ۔ انہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا لوگوں نے کھانا شروع کیا لیکن انہوں نے نہیں کھایا انہیں اس بارے میں کہا: گیا : اللہ کی قسم ! اگر ہمیں پتہ ہوتا کہ آپ نے روزہ رکھا ہوا ہے ، تو ہم آپ کو بلاتے ہی نہیں ، تو سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم یہ نہ کہو ! کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” اپنے بھائی کی دعوت قبول کرو کیونکہ تم اس کے حوالے سے دو چیزیں حاصل کر لو گے یا تو وہاں بھلائی ہو گی ، تو وہ اس بات کی زیادہ حقدار ہے کہ تم وہاں موجود ہو ، یا اس کے علاوہ ہو گا ، تو تم اُسے منع کر دو گے اور اسے بھلائی کے بارے میں حکم دو گے “ ۔

یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن عبداللہ بن یعلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6159
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (271/22)»