مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَجْرِي فِي الْوَلِيمَةِ . باب: ولیمہ میں کیا رکھا جائے ؟
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيْهِ ثَوْبُ صُفْرَةٍ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَهْيَمْ " . وَكَانَتْ كَلِمَةً إِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْأَلَ عَنِ الشَّيْءِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ تَزَوَّجْتُ . قَالَ : " عَلَى كَمْ ؟ " . قَالَ : عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ : " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ " . ¤ قَالَ أَنَسٌ : حَرَّرْنَاهَا رُبُعَ دِينَارٍ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قِيمَةَ النَّوَاةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ انہوں نے زرد لباس پہنا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : میہم ؟ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) یہ ایک ایسا کلمہ ہے کہ جب کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا جائے تو یہ استعمال ہوتا ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے شادی کر لی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کتنے ( مہر ) کے عوض میں ؟ انہوں نے عرض کی : ایک گٹھلی کے وزن جتنے سونے کے عوض ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ولیمہ کرو خواہ ایک بکری ( ذبح کر کے دعوت کرو ) ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے ایک چوتھائی دینار کے عوض میں اسے آزاد کیا تھا ( یعنی اس سونے کو ایک چوتھائی دینار کے عوض میں فروخت کیا تھا ) ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے تا ہم اس میں گٹھلی کی قیمت کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن معن ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔