مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَجْرِي فِي الْوَلِيمَةِ . باب: ولیمہ میں کیا رکھا جائے ؟
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَقَدْ خُضِّبَ بِالصُّفْرَةِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا هَذَا الْخِضَابُ ؟ أَعْرَسْتَ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " أَوْلَمْتَ ؟ " . قَالَ : لَا . فَرَمَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِنَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَالَ : " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ۔ انہوں نے زرد رنگ کا خضاب لگایا ہوا تھا نی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : یہ خضاب کس وجہ سے ہے ؟ کیا تم نے شادی کر لی ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم نے ولیمہ کر لیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک گٹھلی ان کی طرف بڑھائی اور فرمایا : تم ولیمہ کرو خواہ ایک بکری ( ذبح کر کے دعوت کرو ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوبکر بن ابوملیکہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔