حدیث نمبر: 6150
وَعَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ - إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ - دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمًا فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ طَعَامًا فَقَالَ : لَا أَشْتَهِيهِ . فَقَالَتْ : إِنِّي قَيَّنْتُ عَائِشَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، ثُمَّ جِئْتُهُ فَدَعَوْتُهُ لَجِلْوَتِهَا ، فَجَاءَ ، فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِهَا فَأُتِيَ بِعُسِّ لَبَنٍ فَشَرِبَ ، ثُمَّ نَاوَلَهَا [ النَّبَيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ] فَخَفَضَتْ رَأْسَهَا وَاسْتَحْيَتْ . قَالَتْ أَسْمَاءُ : فَانْتَهَرْتُهَا وَقُلْتُ لَهَا : خُذِي مِنْ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَتْ : فَأَخَذَتْ ، فَشَرِبَتْ شَيْئًا ، ثُمَّ قَالَ لَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَعْطِي تِرْبَكِ " . قَالَتْ أَسْمَاءُ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَلْ خُذْهُ فَاشْرَبْ مِنْهُ ، ثُمَّ نَاوِلْنِيهِ مِنْ يَدِكَ ، فَأَخَذَهُ فَشَرِبَ مِنْهُ ، ثُمَّ نَاوَلَنِيهِ ، قَالَتْ : فَجَلَسْتُ ، ثُمَّ وَضَعْتُهُ عَلَى رُكْبَتِي ، ثُمَّ طَفِقْتُ أُدِيرُهُ وَأُتْبِعُهُ شَفَتَيَّ لِأُصِيبَ مِنْهُ مَشْرَبَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، ثُمَّ قَالَ لِنِسْوَةٍ عِنْدِي : " نَاوِلِيهِنَّ " . فَقُلْنَ : لَا نَشْتَهِيهِ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَجْمَعْنَ جُوعًا وَكَذِبًا " . ¤ فَهَلْ أَنْتَ مُنْتَهِيًا أَنْ تَقُولَ : لَا نَشْتَهِيهِ ؟ قُلْتُ : أَيْ أُمَّهْ لَا أَعُودُ أَبَدًا . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ وَزَادَ : وَأَبْصَرَ [ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ] عَلَى إِحْدَاهُنَّ سِوَارًا مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ : " يَا هَذِهِ ، أَتُحِبِّينَ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللَّهُ مَكَانَهُ سِوَارًا مِنْ نَارٍ ؟ " . فَنَزَعْنَاهُ فَرَمَيْنَا بِهِ فَمَا نَدْرِي أَيْنَ هُوَ حَتَّى السَّاعَةِ . [ ثُمَّ ] قَالَ : [ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ] " : إِنَّمَا يَكْفِي إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَتَّخِذَ جُمَانًا مِنْ فِضَّةٍ - وَرُبَّمَا قَالَ : سُوَارًا مِنْ فِضَّةٍ - ثُمَّ تَأْخُذَ شَيْئًا مِنْ زَعْفَرَانَ فَتُدِيفَهُ ، ثُمَّ تُلَطِّخَهُ عَلَيْهِ ، فَإِذَا هُوَ كَأَنَّهُ ذَهَبٌ " . ¤ وَقَدْ رَوَى قِصَّةَ السِّوَارِ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ . وَشَهْرٌ فِيهِ كَلَامٌ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

شہر بن حوشب بیان کرتے ہیں : سیدہ اسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہا جن کا تعلق بنی عبد اشہل کی خواتین سے ہے ایک مرتبہ شہر ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اس خاتون نے ان کے سامنے کھانا رکھا تو انہوں نے کہا: مجھے اس کی خواہش نہیں ہے اس خاتون نے بتایا میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شادی کے موقع پر تیار کروایا تھا پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ کو بلوایا تاکہ آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آ کر بیٹھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پہلو میں بیٹھ گئے پھر دودھ کا برتن لایا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف بڑھایا تو انہوں نے سر جھکا لیا اور وہ شرما گئیں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے انہیں ڈانٹا اور میں نے ان سے کہا: تم اللہ کے رسول کے ہاتھ سے اسے لے لو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ۔ انہوں نے لے لیا اور کچھ پیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنی سہیلی کو بھی کچھ دو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ بلکہ آپ لے کر آپ اس میں سے پیئیں اور پھر اپنے دست مبارک کے ذریعے یہ مجھے پکڑائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے کر اس میں سے پیا پھر آپ نے وہ مجھے پکڑایا سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں بیٹھی اور میں نے اسے اپنے گھٹنے پر رکھا اور پھر اسے گھمایا اور اپنے ہونٹ اس جگہ پر رکھے جہاں پر سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا تھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس موجود خواتین کے بارے میں فرمایا کہ انہیں بھی دو ! ان خواتین نے کہا: ہمیں اس کی خواہش نہیں ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بھوک اور غلط بیانی کو جمع نہ کرو ۔
یہ روایت بیان کرنے کے بعد سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے شہر بن حوشب سے کہا: ) تو کیا تم یہ کہنے سے باز آتے ہو کہ ہمیں اس کی خواہش نہیں ہے ؟ میں نے کہا: اے امی جان اب میں دوبارہ کبھی ایسا نہیں کروں گا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان خواتین میں سے ایک کے ہاتھ میں سونے کا کنگن دیکھا تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے خاتون ! کیا تم اس بات کو پسند کرتی ہو کہ اس کی جگہ اللہ تعالیٰ تمہیں آگ کا بنا ہوا کنگن پہنائے ؟ راوی خاتون کہتی ہیں تو ہم نے اپنے زیور اتار دیے اور انہیں رکھ دیا اور اس وقت تک ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہیں ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم خواتین میں سے کسی ایک کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ چاندی کا کڑا بنوائے پھر تھوڑا زعفران لے کر اسے گیلا کر کے اس پر لگا دے تو وہ سونے کی مانند ہو جائے گا ۔ امام ابوداؤد نے کنگن والا واقعہ بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے شہر نامی راوی کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6150
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (458/6)»