حدیث نمبر: 6149
وَعَنْ أَسْمَاءَ - يَعْنِي بِنْتَ عُمَيْسٍ - قَالَتْ : أَهْدَيْتُ جَدَّتَكِ فَاطِمَةَ إِلَى جَدِّكِ عَلِيٍّ فَمَا كَانَ حَشْوُ فِرَاشِهَا وَوِسَادَتِهَا إِلَّا لِيفٌ ، وَلَقَدْ أَوْلَمَ عَلِيٌّ بِفَاطِمَةَ فَمَا كَانَتْ وَلِيمَةٌ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ أَفْضَلَ مِنْ وَلِيمَتِهِ ؛ رَهَنَ دِرْعَهُ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِشَطْرِ شَعِيرٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَوْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے تمہاری دادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی تمہارے دادا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رخصتی کروائی تھی ان کے بستر اور تکیہ میں صرف پتے بھرے ہوئے تھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ولیمہ کروایا تھا اس زمانے میں ان کے ولیمے سے زیادہ فضیلت والا ولیمہ کوئی نہیں ہوا انہوں نے اپنی زرہ ایک یہودی کے پاس کچھ جو کے عوض میں رہن رکھوائی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عون بن محمد بن حنفیہ ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6149
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير 146,145/24»