❮
❯
حدیث نمبر: 6140
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَفِيَّةَ ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا ، وَجَعَلَ الْوَلِيمَةَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، وَبَسَطَ نِطْعًا جَاءَتْ بِهِ أُمُّ سُلَيْمٍ ، وَأَلْقَى عَلَيْهِ أَقِطًا ، وَتَمْرًا ، وَأَطْعَمَ النَّاسَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ .
قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارِ [ الْأَيَّامِ ] .
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عِيسَى بْنَ أَبِي عِيسَى مَاهَانَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ .
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی ، تو ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا اور آپ نے ولیمہ تین دن کیا آپ نے ایک دسترخوان بچھوایا جو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ لے کے آئی تھیں آپ نے اس پر پنیر اور کھجوریں رکھوا دیں اور لوگوں کو تین دن کھانا کھلایا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، جس میں یہ اختصار موجود ہے کہ اس میں دنوں کا ذکر ہے ( یعنی تین دن کا ذکر نہیں ہے ) ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عیسیٰ بن ابوعیسی ماھان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6140
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (3834) ، أخرجه سنن النسائي برقم: 3343، وأخرجه مسند أحمد برقم: 12455، 13133، 13586، وأخرجه سنن الدارمي برقم: 2243، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 6686، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 3287/1»