حدیث نمبر: 6126
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ كُلَّهُنَّ إِلَّا الْجَانَّ الْأَبْتَرَ [ مِنْهَا ] وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ عَلَى ظَهْرِهِ ، فَإِنَّهُمَا يَقْتُلَانِ الصَّبِيَّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ ، وَيُغَشِّيَانِ الْبَصَرَ ، وَمَنْ تَرَكَهُمَا فَلَيْسَ مِنَّا " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر قسم کے سانپ کو قتل کر دو ! البتہ گھر میں نکل آنے والے دم کئے ہوئے کا ، اور جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوتی ہیں ، اس کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ یہ دونوں ماں کے پیٹ میں موجود بچے کو مار دیتے ہیں اور بینائی کو ختم کر دیتے ہیں ’ جو شخص ان دونوں کو چھوڑے گا وہ ہم میں سے نہیں“ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6126
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (157/6)»