مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَالْحَشَرَاتِ . باب: سانپ اور حشرات الارض کو مار دینا
حدیث نمبر: 6125
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْحَيَّاتُ مَا سَالَمْنَاهُنَّ مُنْذُ حَارَبْنَاهُنَّ ، فَمَنْ رَأَى مِنْهُنَّ شَيْئًا فَلْيَقْتُلْهُ ، فَإِنَّهُ لَا يَبْدُو لَكُمْ مُسْلِمُوهُمْ وَمَنْ تَرَكَ شَيْئًا مِنْهُنَّ خِيفَةً فَلَيْسَ مِنَّا " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سانپوں کے ساتھ جب سے ہم نے جنگ شروع کی ہے ہم نے جنگ ختم نہیں کی جو شخص ان میں سے کسی کو دیکھتا ہے اسے چاہیے کہ اسے مار دے کیونکہ ان سانپوں میں سے مسلمان تمہارے سامنے نہیں آئیں گے جو شخص خوف کی وجہ سے ان میں سے کسی کو چھوڑے گا وہ ہم میں سے نہیں“ ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عجلان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔