مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكِلَابِ . باب: کتوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْتِي دَارَ قَوْمٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَدُونَهُمْ دَارٌ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، [ سُبْحَانَ اللَّهِ ] تَأْتِي دَارَ قَوْمٍ ، وَلَا تَأْتِي دَارَنَا ؟ ! فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِأَنَّ فِي دَارِكُمْ كَلْبًا " . قَالُوا : فَإِنَّ فِي دَارِهِمْ سِنَّوْرًا ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " [ إِنَّ ] السِّنَّوْرَ سَبُعٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک محلے میں تشریف لائے ان سے پہلے والا جو محلہ تھا وہاں کے لوگوں کو یہ بات بہت گراں گزری ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! سبحان اللہ آپ ان لوگوں کے محلے میں آ گئے ہیں اور ہمارے محلے میں نہیں آئے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ تمہارے محلے میں کتا موجود ہے لوگوں نے عرض کی : ان کے محلے میں بھی بلی موجود ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بلی درندہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن مسیب ہے ، جسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔