حدیث نمبر: 6056
عَنْ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ عَنْ أَكْلِ الْأَرْنَبِ فَقَالَ : ادْعُ لِي عَمَّارًا ، فَجَاءَ عَمَّارٌ ، فَقَالَ : حَدِّثْنَا حَدِيثَ الْأَرْنَبِ يَوْمَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَوْضِعِ كَذَا وَكَذَا . فَقَالَ عَمَّارٌ : أَهْدَى أَعْرَابِيٌّ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْنَبًا فَأَمَرَ الْقَوْمَ أَنْ يَأْكُلُوا ، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : [إِنِّي]رَأَيْتُ دَمًا ! فَقَالَ : " لَيْسَ بِشَيْءٍ [ ثُمَّ قَالَ ] . ادْنُ فَكُلْ " . فَقَالَ : إِنِّي صَائِمٌ . فَقَالَ : " صَوْمُ مَاذَا ؟ " . فَقَالَ : أَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ . قَالَ : " فَهَلَّا جَعَلْتَهَا الْبِيضَ ؟ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ایک شخص نے ان سے خرگوش کھانے کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے فرمایا : عمار کو میرے پاس بلا کے لاؤ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ آئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم ہمیں وہ حدیث بیان کرو جو خرگوش کے بارے میں ہے ، جو اس دن کے بارے میں ہے جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فلاں فلاں مقام پر موجود تھے تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک دیہاتی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے کے طور پر خرگوش ( کا گوشت ) پیش کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاضرین کو حکم دیا کہ وہ اسے کھالیں دیہاتی نے کہا: میں نے خون دیکھا ہے ( یعنی یہ مادہ خرگوش ہے اور اسے خون آتا ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کوئی حرج نہیں ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم آگے ہو اور اسے کھاؤ اس نے عرض کی : میں نے روزو رکھا ہوا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کون سا روزہ ؟ اس نے جواب دیا میں ہر مہینے میں تین روزے رکھتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ ( روزے ) چمک دار دنوں میں کیوں نہیں رکھتے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6056
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (1612) اخرجه احمد فى المسند (210 مختصرا)»