مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابُ ذَكَاةِ الْمُتَرَدِّي وَنَحْوِهِ . باب: ( بلندی سے ) گرے ہوئے یا اس کی مانند جانور کو ذبح کرنا
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : اتَّبَعْنَا بَقَرَةً فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِنَسْرَكَ عَلَيْهَا فَانْفَلَتَتْ مِنَّا فَامْتَنَعَتْ عَلَيْنَا فَعَرَضَ لَهَا مَوْلًى لَنَا - يُقَالُ لَهُ : ذَكْوَانُ - بِسَيْفٍ فِي يَدِهِ وَهِيَ تَجُولُ بِالضِّمَادِ فَضَبَا إِلَى تَلٍّ فَلَمَّا مَرَّتْ بِهِ ضَرَبَهَا بِالسَّيْفِ فِي أَصْلِ عُنُقِهَا أَوْ عَلَى عَاتِقِهَا فَخَرَقَهَا بِالسَّيْفِ وَوَقَعَتْ فَلَمْ يُدْرِكْ ذَكَاتَهَا ، فَخَرَجْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ الْجِذْعِ ، فَلَقِينَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرْنَا لَهُ شَأْنَهَا ، فَقَالَ : " كُلُوا ؛ إِذَا فَاتَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْبَهَائِمِ شَيْءٌ فَاحْبِسُوهُ بِمَا تَحْبِسُونَ بِهِ الْوَحْشَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ حَرَامُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم ایک گائے کے پیچھے جا رہے تھے تاکہ اس کو پکڑ لیں لیکن وہ ہم سے چھوٹ جاتی تھی وہ ہمارے ق ابومیں نہیں آ رہی تھی ہمارا ایک غلام جس کا نام ذکوان تھا وہ اس کے سامنے آیا اس کے ہاتھ میں تلوار تھی ، وہ گائے گھومتی ہوئی ایک ٹیلے کی طرف چلی گئی ، جب وہ اس شخص کے پاس سے گزری تو اس نے اس گائے کی گردن پر تلوار ماری ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) کندھے پر تلوار ماری تو تلوار نے اسے چیر دیا وہ گائے گر گئی اسے ذبح کرنے کا موقع نہیں ملا میں اور عبداللہ بن ثابت بن جذع نکلے ہماری ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی ہم نے اس گائے کا معاملہ آپ کے سامنے ذکر کیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم اسے کھا لو جب اس طرح کا کوئی جانور تمہارے ق ابوسے نکل جائے تو تم اسے یوں پکڑو جس طرح وحشی جانوروں کو پکڑتے ہو ( یا رکنے پر مجبور کرتے ہو ) ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حرام بن عثمان ہے اور وہ متروک ہے ۔