مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا تَجُوزُ بِهِ الذَّكَاةُ . باب: کون سی چیز کے ذریعے ذبح کرنا جائز ہے
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تَرْعَى عَلَى آلِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ غَنَمًا بِسَلْعٍ فَخَافَتْ عَلَى شَاةٍ مِنْهَا الْمَوْتَ فَذَبَحَتْهَا بِحَجَرٍ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَهُمْ بِأَكْلِهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ جَارِيَةٍ ذَبَحَتْ بِلِيطَةٍ ، فَقَالَ : " كُلْهُ " . ¤ رِجَالُ أَحْمَدَ ، وَالْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک عورت ” سلع “ پہاڑ کے پاس آل کعب بن مالک کی بکریاں چرا رہی تھی اسے ایک بکری کے حوالے سے مرنے کا اندیشہ ہوا تو اس نے پتھر کے ذریعے اسے ذبح کر دیا اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ نے ان لوگوں کو اس کا گوشت کھانے کا حکم دیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات منقول ہے سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کنیز کے بارے میں دریافت کیا : جس نے پتھر کے ذریعے جانور کو ذبح کیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس کو کھا لو ۔ امام أحمد اور امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔