حدیث نمبر: 6035
وَلِسَفِينَةَ عِنْدَ الْبَزَّارِ أَنَّهُ أَشَاطَ دَمَ جَزُورٍ بِجِذْلٍ فَسَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ : " أَنْهَرَ الدَّمَ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّهُ مِنْ رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ سَفِينَةَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے امام بزار نے یہ بات نقل کی ہے ۔ انہوں نے درخت کے تنے کے ذریعے ایک اونٹ کو ذبح کیا انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو آپ نے دریافت کیا : کیا اس نے خون بہا دیا تھا اس نے جواب دیا : جی ہاں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صاحب کو اس کے کھانے کا حکم دیا ( یعنی اجازت دی ) ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ یہ یحیی بن ابوکثیر کی سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6035
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1225)»