حدیث نمبر: 602
وَعَنِ الْمُقَنَّعِ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِصَدَقَةِ إِبِلِنَا فَأَمَرَ بِهَا فَقُبِضَتْ ، فَقُلْتُ : إِنَّ فِيهَا نَاقَتَيْنِ هَدِيَّةً لَكَ ، فَأَمَرَ بِعَزْلِ الْهَدِيَّةِ مِنَ الصَّدَقَةِ ، فَمَكَثْتُ أَيَّامًا وَخَاضَ النَّاسُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ بَاعِثُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ إِلَى رَقِيقِ مِصْرَ ، أَوْ قَالَ : مُضَرَ - شَكَّ أَبُو غَسَّانَ - يُصَدِّقُهُمْ ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ إِنَّ لَنَا وَمَا عِنْدَ أَهْلِنَا مِنْ مَالٍ وَلَا صَدَّقْتُهُمْ هَاهُنَا ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ مَعَهُ أَسْوَدُ قَدْ حَاذَى رَأْسُهُ بِرَأْسِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ أَطْوَلَ مِنْهُ ، فَلَّمَا دَنَوْتُ كَأَنَّهُ أَهْوَى إِلَيَّ ، فَكَفَّهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : إِنَّ النَّاسَ خَاضُوا فِي كَذَا وَكَذَا ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَيْهِ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى بَيَاضِ إِبِطَيْهِ وَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي لَا أُحِلُّ لَهُمْ أَنْ يَكْذِبُوا عَلَيَّ " . قَالَ الْمُقَنَّعُ : فَلَمْ أُحَدِّثْ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا حَدِيثًا نَطَقَ بِهِ كِتَابٌ أَوْ جَرَتْ بِهِ سُنَّةٌ ، يُكْذَبُ عَلَيْهِ فِي حَيَاتِهِ ، فَكَيْفَ بَعْدَ مَوْتِهِ ؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سَيْفُ بْنُ هَارُونَ الْبُرْجُمِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا مقنع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے اونٹوں کی زکوۃ کے ہمراہ حاضر ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے بارے میں حکم دیا تو انہیں قبضہ میں لے لیا گیا ، میں نے گزارش کی : ان میں دو اونٹنیاں ایسی ہیں جو آپ کے لیے تحفے کے طور پر ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت تحفہ کو صدقے سے الگ کر دیا گیا ، میں کچھ دنوں تک وہاں ٹھہرا رہا ، اس دوران لوگ آپس میں یہ بات چیت کرتے رہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو مصر کے غلاموں ، راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : مضر کے غلاموں کی طرف بھیجنے لگے ہیں ، یہ شک ابوغسان نامی راوی کو ہے ، تاکہ وہ ان لوگوں سے زکوۃ وصول کر کے آئیں ، میں نے کہا: اللہ کی قسم ! ہمارے پاس اور ہمارے علاقے کے لوگوں کے پاس جو بھی مال ہے ، میں نے اس کی زکوۃ یہاں ادا کر دی ہے ، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ اُس وقت اپنی اونٹنی پر موجود تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سیاہ فام صاحب موجود تھے ( قد و قامت کے حوالے سے ) جن کا سر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے برابر تھا ، میں نے اُن سے زیادہ طویل القامت کوئی شخص نہیں دیکھا ، جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہونے لگا ، تو وہ میری طرف بڑھے ( تاکہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آنے سے روک دیں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک دیا ، میں نے عرض کی : لوگ یہ کچھ سوچ رہے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ، یہاں تک کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی نظر آ گئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! میں لوگوں کے لئے یہ چیز حلال قرار نہیں دیتا ہوں کہ وہ میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کریں ۔ سیدنا مقنع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے صرف وہی حدیث بیان کروں گا ، جس کے بارے میں کتاب ( یعنی قرآن ) میں حکم موجود ہو ، یا جس کے حوالے سے سنت جاری ہو چکی ہو ، اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں آپ کی طرف جھوٹی بات منسوب کی جا سکتی ہے ، تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد کیا عالم ہو گا ؟
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سیف بن ہارون برجمی ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 602
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 300/20»