مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابُ صَيْدِ الْقَوْسِ وَقَوْلِهِ : كُلْ مَا أَصَمَيْتَ وَدَعْ مَا أَنْمَيْتَ . باب: کمان کے ذریعے شکار کرنا
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدًا أَسْوَدَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَمُرُّ بِيَ ابْنُ السَّبِيلِ ، وَأَنَا فِي مَاشِيَةٍ لِسَيِّدِي فَأَسْقِي مِنْ أَلْبَانِهَا بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ ؟ قَالَ : " لَا " . قَالَ : فَإِنِّي أَرْمِي فَأُصْمِي ، وَأُنْمِي قَالَ : " كُلْ مَا أَصْمَيْتَ وَدَعْ مَا أَنْمَيْتَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَظُنُّهُ الْقُرَشِيَّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک سیاہ فام غلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : ابن سبیل ( یعنی کوئی مسافر ) میرے پاس سے گزرے اور میں اس وقت اپنے آقا کے جانوروں میں موجود ہوؤں ، تو کیا میں اپنے آقاؤں کی اجازت کے بغیر ان جانوروں کے دودھ میں سے کچھ پینے کے لئے دے سکتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! اس شخص نے دریافت کیا : اگر میں تیر مارتا ہوں اور جانور میری نگاہ سے اوجھل نہیں ہوتا یا اوجھل ہو جاتا ہے ( تو حکم کیا ہو گا ؟ ) تو آپ نے فرمایا : جو تمہاری نگاہ سے اوجھل نہ ہو اسے تم کھا لو اور جو اوجھل ہو جائے اسے رہنے دو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں راوی عثمان بن عبدالرحمن ہے میرا خیال ہے یہ قرشی ہے ۔