مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ رَمَى الصَّيْدَ فَغَابَ عَنْهُ . باب: جو شخص جانور کو تیر مارے اور جانور کا کچھ حصہ اس سے الگ ہو جائے
حدیث نمبر: 6019
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ يَكْرَهُ إِذَا بَاتَ الصَّيْدُ عَنْ صَاحِبِهِ لَيْلَةً أَنْ يَأْكُلَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ اس بات کو مکروہ سمجھتے تھے کہ جب کوئی شکار رات بھر اپنے ساتھی سے الگ رہے ، تو اسے کھایا جائے ( یعنی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اسے مکروہ سمجھتے تھے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن عاصم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔