مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأضاحي— اضاحی ( یعنی قربانی ) کے بارے میں روایات
بَابُ جَوَازِ الْأَكْلِ بَعْدَ ثَلَاثٍ . باب: تین دن کے بعد ( قربانی کا گوشت ) کھانے کا جائز ہونا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ ، وَعَنِ النَّبِيذِ فِي الْجَرِّ ، وَعَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَكُلُوا مَا شِئْتُمْ . وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ فِي الْجَرِّ فَاشْرَبُوا ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا ، وَلَا تَقُولُوا مَا أَسْخَطَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ جَابِرٍ الْأَزْدِيُّ وَالِدُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَافِظِ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا اور گھڑے میں نبیذ تیار کرنے سے اور قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا ) اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پہلے میں نے تمہیں تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا اب جتنا تم چاہو کھاؤ اور میں نے تمہیں گھڑے میں نبیذ تیار کرنے سے منع کیا تھا اب تم پیؤ لیکن ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا اب تم ان کی زیارت کرو لیکن کوئی ایسی بات نہ کہنا جو اللہ تعالی کو ناراض کر دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن جابر ازدی ہے ، جو عبدالرحمن حافظ کا والد ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔