مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأضاحي— اضاحی ( یعنی قربانی ) کے بارے میں روایات
بَابُ جَوَازِ الْأَكْلِ بَعْدَ ثَلَاثٍ . باب: تین دن کے بعد ( قربانی کا گوشت ) کھانے کا جائز ہونا
وَعَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ نَهَى عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ، وَعَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ يُمْسِكَهَا فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ . وَعَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ فَانْتَبِذُوا فِيمَا بَدَا لَكُمْ ، فَإِنَّ الْوِعَاءَ لَا يُحِلُّ شَيْئًا ، وَلَا يُحَرِّمُهُ . وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تَحْبِسُوهَا فَوْقَ ثَلَاثٍ فَاحْبِسُوا مَا بَدَا لَكُمْ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا ، فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْآخِرَةَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَحْمَدُ - وَيَأْتِي حَدِيثُهُ فِي الْأَشْرِبَةِ - ، وَفِيهِ الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ نے گھڑے کی نبیذ اور قربانی کے گوشت کو تین دن سے زیادہ رکھنے اور قبروں کی زیارت کرنے سے منع فرمایا تھا پھر آپ نے ارشاد فرمایا : پہلے میں نے تمہیں گھڑے کی نبیذ سے منع کیا تھا اب تم جس ( برتن ) میں مناسب سمجھو نبیذ تیار کر لو کیونکہ برتن کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں کرتا ہے اور میں نے تمہیں قربانی کے گوشت کو تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع کیا تھا اب جتنا تمہیں مناسب لگے تم اسے سنبھال کے رکھو اور میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا اب تم ان کی زیارت کرو کیونکہ یہ آخرت کی یاد دلاتی ہیں ۔
یہ روایت امام بزار اور امام أحمد نے نقل کی ہے اور ان کی نقل کردہ حدیث مشروبات متعلق باب میں آگے آئیں گی اس کی سند میں ایک راوی حارث بن نبھان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔