مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأضاحي— اضاحی ( یعنی قربانی ) کے بارے میں روایات
بَابُ جَوَازِ الْأَكْلِ بَعْدَ ثَلَاثٍ . باب: تین دن کے بعد ( قربانی کا گوشت ) کھانے کا جائز ہونا
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ، وَإِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ، وَإِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَضَاحِيِّ . أَلَا وَإِنَّ الْأَوْعِيَةَ لَا تُحِلُّ شَيْئًا ، وَلَا تُحَرِّمُهُ . أَلَا وَزُورُوا الْقُبُورَ ، فَإِنَّهَا تُرِقُّ الْقَلْبَ " . زَادَ عَبْدُ اللَّهِ فِي حَدِيثِهِ : " أَلَا وَإِنِّي نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا مَا شِئْتُمْ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ فِي الصَّحِيحِ : النَّهْيُ عَنْ لَحْمِ الْأَضَاحِيِّ وَالْأَوْعِيَةِ مِنْ غَيْرِ إِذْنٍ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ بَعْدُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبَانٍ الرَّقَاشِيُّ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں نے تمہیں گھڑے کی نبیذ سے منع کیا تھا میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا اور میں نے تمہیں قربانی کے گوشت کے حوالے سے منع کیا تھا خبردار برتن کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں کرتے ہیں خبردار تم قبروں کی زیارت کرو کیونکہ یہ دلوں کو نرم کرتی ہے “ ۔ عبداللہ نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ زائد قتل کیے ہیں : ” خبردار میں نے تمہیں قربانی کے گوشت سے منع کیا تھا اب تم کھاؤ بھی اور جتنا تم چاہو ذخیرہ بھی کرو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ” صحیح “ میں حدیث مذکور ہے ، جو قربانی کے گوشت اور برتنوں کے بارے میں ہے اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ بعد میں اس بارے میں اجازت دے دی گئی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابان رقاشی ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔