مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأضاحي— اضاحی ( یعنی قربانی ) کے بارے میں روایات
بَابُ جَوَازِ الْأَكْلِ بَعْدَ ثَلَاثٍ . باب: تین دن کے بعد ( قربانی کا گوشت ) کھانے کا جائز ہونا
وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ أُمِّهِ أُمِّ سُلَيْمَانَ ، وَكِلَاهُمَا كَانَ ثِقَةً قَالَتْ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلْتُهَا عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْهَا ، ثُمَّ رَخَّصَ . قَدِمَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مِنْ سَفَرٍ فَأَتَتْهُ فَاطِمَةُ بِلَحْمٍ مِنْ ضَحَايَاهَا فَقَالَ : أَوْلَمَ يَنْهَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَتْ : إِنَّهُ قَدْ رَخَّصَ فِيهَا . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ عَائِشَةَ فِي الصَّحِيحِ خَالِيًا عَنْ حَدِيثِ فَاطِمَةَ وَلِذَلِكَ ذَكَرَهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ فِي مُسْنَدِ فَاطِمَةَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : لَمْ تَرْوِ أُمُّ سُلَيْمَانَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ . قُلْتُ : وُثِّقَتْ كَمَا نُقِلَ فِي الْمُسْنَدِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤سلیمان بن ابوسلیمان ، اپنی والدہ اُم سلیمان کے حوالے سے نقل کرتے ہیں : یہ دونوں ثقہ ہیں وہ خاتون بیان کرتی ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی میں نے ان سے قربانی کے گوشت کے بارے میں دریافت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو اس سے منع کیا کرتے تھے پھر آپ نے اس کی رخصت دے دی سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سفر سے آئے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ان کے پاس اپنی قربانی کا گوشت لے کے آئیں تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں کیا ، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دے دی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے ” صحیح “ میں منقول ہے تا ہم اس میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا والا واقعہ نہیں ہے اسی لئے امام أحمد نے اس روایت کو مسند أحمد میں مسند فاطمہ والے باب میں نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور وہ فرماتے ہیں : ام سلیمان نامی خاتون نے اس روایت کے علاوہ اور کوئی حدیث نقل نہیں کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس خاتون کی توثیق کی گئی ہے جیسا کہ ” مسند “ میں یہ بات نقل کی گئی ہے اور امام أحمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔