مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأضاحي— اضاحی ( یعنی قربانی ) کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ . باب: اس شخص کا بیان ، جو ( عید کی ) نماز سے پہلے ذبح کر دے
حدیث نمبر: 5984
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ أَنَّ رَجُلًا ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تُجْزِئُ عَنْكَ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً ؟ فَقَالَ : " تُجْزِئُ عَنْكَ ، وَلَا تُجْزِئُ بَعْدَكَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ الْجَمِيعِ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قربانی کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ( عید کی ) نماز عید ادا کرنے سے پہلے ایک شخص نے جانور ذبح کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ تمہاری طرف سے ادا نہیں ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پاس ایک ( بکری یا بھیڑ کا ) بچہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ تمہاری طرف سے درست ہو جائے گا ، لیکن تمہارے بعد ( کسی کی طرف سے ) درست نہیں ہو گا ۔
یہ روایت ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ان سب کے رجال ثقہ ہیں ۔