مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأضاحي— اضاحی ( یعنی قربانی ) کے بارے میں روایات
باب باب: ذوالحج کے پہلے عشرے کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا فَاطِمَةُ قُومِي إِلَى أُضْحِيَتِكِ فَاشْهَدِيهَا ، فَإِنَّ لَكِ بِكُلِّ قَطْرَةٍ تَقْطُرُ مِنْ دَمِهَا أَنْ يُغْفَرَ لَكِ مَا سَلَفَ مِنْ ذُنُوبِكِ " . قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَنَا خَاصَّةً أَهْلَ الْبَيْتِ ، أَوْ لَنَا وَلِلْمُسْلِمِينَ ؟ قَالَ : " بَلْ لَنَا وَلِلْمُسْلِمِينَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ بْنُ قَيْسٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم نے ارشاد فرمایا : ” اے فاطمہ ! اٹھ کر اپنی قربانی کے جانور کے پاس جاؤ اور ( اس کو ذبح کرنے کے وقت ) اس کے پاس موجود رہو کیونکہ اس کے خون کا جو بھی قطرہ گرے گا اس کے عوض میں تمہیں یہ چیز ملے گی کہ تمہارے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جائے گی ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ ہمارے اہل بیت کے لئے مخصوص ہے ؟ یا ہمارے لئے بھی ہے اور مسلمانوں کے لئے بھی ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بلکہ یہ ہمارے لئے بھی ہے اور مسلمانوں کے لئے بھی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطیہ بن قیس ہے ، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔