حدیث نمبر: 5935
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا فَاطِمَةُ ، قُومِي فَاشْهَدِي أُضْحِيَتَكِ ، فَإِنَّهُ يُغْفَرُ لَكِ بِأَوَّلِ قَطْرَةٍ مِنْ دَمِهَا كُلُّ ذَنْبٍ عَمِلْتِيهِ وَقُولِي : إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ " . قَالَ عِمْرَانُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا لَكَ وَلِأَهْلِ بَيْتِكَ خَاصَّةً - فَأَهْلُ ذَلِكَ أَنْتُمْ - أَوْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً ؟ قَالَ : " بَلْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے فاطمہ ! اٹھو اور اپنی قربانی کے ( ذبیح کے وقت ) پاس موجود رہو کیونکہ اس کے خون کے پہلے قطرے کے ساتھ تمہارے ہر اُس گناہ کی مغفرت ہو جائے گی جو تم نے کیا ہو گا اور تم یہ پڑھنا : ” بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں میں سے ایک ہوں “ ۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ آپ کے لئے اور آپ کے اہل بیت کے لئے مخصوص ہے کہ آپ لوگ اس چیز کے اہل ہیں یا یہ مسلمانوں کے لئے عام ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( جی نہیں ! ) بلکہ یہ مسلمانوں کے لئے عام ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوحمزہ ثمالی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأضاحي / حدیث: 5935
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (239/18)»