مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ خُرُوجِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ [ مِنْهَا ] . باب: اہل مدینہ کا وہاں سے نکل جانا
عَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحَاجَةٍ ، ثُمَّ عَرَضَ ، وَأَنَا خَارِجٌ مِنْ طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ ، قَالَ : فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ حَتَّى صَعِدَ أُحُدًا فَأَقْبَلَ عَلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ : " وَيْلُ أُمِّهَا قَرْيَةً يَدَعُهَا أَهْلُهَا كَأَيْنَعَ مَا يَكُونُ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ يَأْكُلُ ثِمَارَهَا ؟ قَالَ : " عَافِيَةُ الطَّيْرِ ، وَالسِّبَاعِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کام کے سلسلے میں بھیجا پھر آپ تشریف لا رہے تھے اور میں مدینہ منورہ کے ایک راستے سے نکل رہا تھا راوی بیان کرتے ہیں : میں آپ کے ساتھ چل پڑا یہاں تک کہ آپ احد پہاڑ پر چڑھ گئے آپ نے مدینہ منورہ کی طرف رخ کیا اور ارشاد فرمایا : اس کی ماں کی بربادی ہے یہ ایک ایسی بستی ہے ، جس کے رہنے والے لوگ اسے چھوڑ جائیں گے ، حالانکہ اس کا پھل اتارنے کا وقت آ چکا ہو گا ( یعنی لوگ قحط کی وجہ سے اس کو چھوڑ کر نہیں جائیں گے بلکہ یہاں کی نعمتیں بھی چھوڑ جائیں گے ) راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کے پھل کو کون کھائے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پرندے اور درندے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔