حدیث نمبر: 5919
عَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحَاجَةٍ ، ثُمَّ عَرَضَ ، وَأَنَا خَارِجٌ مِنْ طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ ، قَالَ : فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ حَتَّى صَعِدَ أُحُدًا فَأَقْبَلَ عَلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ : " وَيْلُ أُمِّهَا قَرْيَةً يَدَعُهَا أَهْلُهَا كَأَيْنَعَ مَا يَكُونُ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ يَأْكُلُ ثِمَارَهَا ؟ قَالَ : " عَافِيَةُ الطَّيْرِ ، وَالسِّبَاعِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کام کے سلسلے میں بھیجا پھر آپ تشریف لا رہے تھے اور میں مدینہ منورہ کے ایک راستے سے نکل رہا تھا راوی بیان کرتے ہیں : میں آپ کے ساتھ چل پڑا یہاں تک کہ آپ احد پہاڑ پر چڑھ گئے آپ نے مدینہ منورہ کی طرف رخ کیا اور ارشاد فرمایا : اس کی ماں کی بربادی ہے یہ ایک ایسی بستی ہے ، جس کے رہنے والے لوگ اسے چھوڑ جائیں گے ، حالانکہ اس کا پھل اتارنے کا وقت آ چکا ہو گا ( یعنی لوگ قحط کی وجہ سے اس کو چھوڑ کر نہیں جائیں گے بلکہ یہاں کی نعمتیں بھی چھوڑ جائیں گے ) راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کے پھل کو کون کھائے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پرندے اور درندے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5920
وَعَنْ مِحْجَنٍ أَيْضًا قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى حَاجِزٍ يَمِينَ الْمَدِينَةِ فِي حَاجَةٍ فَلَمَّا رَجَعَتُ ذَهَبَ مَعِي حَتَّى صَعِدَ أُحُدًا ، فَأَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ : " وَيْلُ أُمِّكِ قَرْيَةً يَدَعُكِ أَهْلُكِ ، وَأَنْتِ خَيْرُ مَا تَكُونِينَ " ، ثُمَّ نَزَلَ وَنَزَلْتُ مَعَهُ حَتَّى أَتَيْنَا بَابَ الْمَسْجِدِ ، فَرَأَى رَجُلًا يُصَلِّي فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى مَنْكِبِي ، فَأَثَارَهُ بَصَرُهُ ، فَقَالَ : " أَتَقُولُهُ صَادِقًا ؟ " قَالَهَا ثَلَاثًا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا ، وَهُوَ أَعْبَدُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اتَّقِ لَا تُسْمِعْهُ فَتُهْلِكَهُ " قَالَهَا ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنَّ اللَّهَ رَضِيَ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ الْيَسِيرَ وَكَرِهَ لَهَا الْعَسِيرَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا محجن رضی اللہ عنہ ہی کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام کے سلسلے میں مدینہ منورہ کے اطراف کی طرف بھیجا جب میں واپس آیا تو آپ مجھے ساتھ لے کے چل پڑے یہاں تک کہ آپ احد پہاڑ پر چڑھ گئے آپ نے مدینہ منورہ کی طرف رخ کیا اور ارشاد فرمایا : تمہاری ماں کی بربادی ہے تم ایک ایسی بستی ہو کہ تمہارے رہنے والے لوگ تمہیں چھوڑ جائیں گے حالانکہ تم سب سے بہتر جگہ ہو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اترے میں بھی آپ کے ساتھ نیچے اتر آیا یہاں تک کہ ہم مسجد کے دروازے تک پہنچ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا آپ نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھا اور بغور اس کا جائزہ لیا آپ نے دریافت کیا : کیا تم اس کے بارے میں یہ سمجھتے ہو کہ یہ سچا ہے ؟ یہ بات آپ نے تین مرتبہ دریافت کی ، تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ شخص اہل مدینہ کا سب سے بڑا عبادت گزار ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس بات سے بچ کے رہو کہ تمہاری یہ آواز اس تک پہنچے ورنہ تم اسے ہلاکت کا شکار کر دو گے یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالی اس امت سے آسان چیز سے راضی ہو جاتا ہے اور وہ ان کے لئے مشکل چیز کو ناپسند کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5921
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَدِينَةُ يَتْرُكُهَا أَهْلُهَا وَهِيَ مُرْطِبَةٌ " ، قَالُوا : فَمَنْ يَأْكُلُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " السِّبَاعُ وَالْعَائِفُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدَ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مدینہ کے رہنے والے لوگ اسے چھوڑ جائیں گے ، حالانکہ اس کی کھجوریں ( اتارنے کے لیے ) تیار ہو چکی ہونگی ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس ( کے پھلوں وغیرہ ) کو کون کھائے گا ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : درندے اور جانور ( یا پرندے ) “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5922
وَعَنْ جَابِرٍ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَيَسِيرَنَّ رَاكِبٌ فِي جَنْبِ وَادِي الْمَدِينَةِ فَلَيَقُولُنَّ : لَقَدْ كَانَ فِي هَذِهِ مَرَّةً حَاضِرَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ كَثِيرٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مدینہ کی وادی کے پہلو سے ایک سوار شخص گزرے گا اور وہ یہ کہے گا یہاں کبھی بہت سے مسلمان ہوا کرتے تھے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 5923
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَيَسِيرَنَّ الرَّاكِبُ فِي جَنَبَاتِ الْمَدِينَةِ ، ثُمَّ لَيَقُولُنَّ : لَقَدْ كَانَ فِي هَذَا حَاضِرٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ كَثِيرٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایک سوار مدینہ منورہ کے پہلو سے گزرے گا اور پھر وہ یہ کہے گا کہ یہاں کبھی بہت سے مسلمان ہوا کرتے تھے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 5924
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَأَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ فَتَعَجَّلَ رِجَالٌ إِلَى الْمَدِينَةِ وَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِتْنَا مَعَهُ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ سَأَلَ عَنْهُمْ ، فَقِيلَ : " تَعَجَّلُوا إِلَى الْمَدِينَةِ وَالنِّسَاءِ ، أَمَا إِنَّهُمْ سَيَدَعُونَهَا أَحْسَنَ مَا كَانَتْ " ، ثُمَّ قَالَ : " لَيْتَ شِعْرِي مَتَى تَخْرُجُ نَارٌ مِنَ الْيَمَنِ مِنْ جَبَلِ الْوَرَّاقِ تُضِيءُ مِنْهَا أَعْنَاقُ الْإِبِلِ بِبُصْرَى تَرَوْهَا كَضَوْءِ النَّهَارِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آ رہے تھے ہم نے ذوالحلیفہ دیکھا ( یعنی جب ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو کچھ افراد جلدی سے مدینہ منورہ چلے گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں رات بسر کی ہم نے آپ کے ساتھ رات بسر کی جب صبح ہوئی تو ہم نے ان لوگوں کے بارے میں دریافت کیا ، تو عرض کی گئی وہ لوگ جلدی مدینہ منورہ کی طرف اور خواتین کی طرف چلے گئے ہیں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( عنقریب یہ لوگ اسے چھوڑ دیں گے حالانکہ یہ اس وقت سب سے بہتر ہو گا پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ایسا بھی ہو گا کہ جب یمن سے ایک آگ نکلے گی جو وراق کے پہاڑ سے نکلے گی اور بصری میں موجود اونٹوں کی گردنوں کو روشن کر دے گی تم اسے یوں دیکھو گے جیسے دن کی روشنی ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5925
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ خَارِجٌ مِنْ بَعْضِ بُيُوتِهِ يَجُرُّ رِدَاءَهُ وَهُوَ يَقُولُ : " سَيَبْلُغُ إِلَيْنَا سَلْعًا ، ثُمَّ يَأْتِي عَلَى الْمَدِينَةِ زَمَانٌ يَمُرُّ السَّفْرُ عَلَى بَعْضِ أَقْطَارِهَا فَيَقُولُ : قَدْ كَانَتْ هَذِهِ مَرَّةً عَامِرَةً مِنْ طُولِ الزَّمَانِ وَعُفُوِّ الْأَثَرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ الْمِصِّيصِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ اس وقت اپنے کسی گھر سے نکل رہے تھے اور اپنی چادر کو کھینچ کر نکل رہے تھے آپ نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب سلع ( پہاڑ ) ہم تک پہنچ جائے گا ( یعنی مدینہ منورہ پھیل جائے گا ) پھر مدینہ منورہ پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اس کے پاس سے کوئی مسافر گزرے گا اور یہ کہے گا کبھی یہ بستی آباد ہوا کرتی تھی یعنی طویل زمانہ گزرنے کے بعد اور نشانات مٹ جانے کے بعد ایسا ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عبداللہ بن خالد مصیصی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عبداللہ بن خالد مصیصی ہے اور وہ متروک ہے ۔