مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ خُرُوجِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ [ مِنْهَا ] . باب: اہل مدینہ کا وہاں سے نکل جانا
وَعَنْ مِحْجَنٍ أَيْضًا قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى حَاجِزٍ يَمِينَ الْمَدِينَةِ فِي حَاجَةٍ فَلَمَّا رَجَعَتُ ذَهَبَ مَعِي حَتَّى صَعِدَ أُحُدًا ، فَأَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ : " وَيْلُ أُمِّكِ قَرْيَةً يَدَعُكِ أَهْلُكِ ، وَأَنْتِ خَيْرُ مَا تَكُونِينَ " ، ثُمَّ نَزَلَ وَنَزَلْتُ مَعَهُ حَتَّى أَتَيْنَا بَابَ الْمَسْجِدِ ، فَرَأَى رَجُلًا يُصَلِّي فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى مَنْكِبِي ، فَأَثَارَهُ بَصَرُهُ ، فَقَالَ : " أَتَقُولُهُ صَادِقًا ؟ " قَالَهَا ثَلَاثًا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا ، وَهُوَ أَعْبَدُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اتَّقِ لَا تُسْمِعْهُ فَتُهْلِكَهُ " قَالَهَا ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنَّ اللَّهَ رَضِيَ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ الْيَسِيرَ وَكَرِهَ لَهَا الْعَسِيرَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا محجن رضی اللہ عنہ ہی کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام کے سلسلے میں مدینہ منورہ کے اطراف کی طرف بھیجا جب میں واپس آیا تو آپ مجھے ساتھ لے کے چل پڑے یہاں تک کہ آپ احد پہاڑ پر چڑھ گئے آپ نے مدینہ منورہ کی طرف رخ کیا اور ارشاد فرمایا : تمہاری ماں کی بربادی ہے تم ایک ایسی بستی ہو کہ تمہارے رہنے والے لوگ تمہیں چھوڑ جائیں گے حالانکہ تم سب سے بہتر جگہ ہو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اترے میں بھی آپ کے ساتھ نیچے اتر آیا یہاں تک کہ ہم مسجد کے دروازے تک پہنچ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا آپ نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھا اور بغور اس کا جائزہ لیا آپ نے دریافت کیا : کیا تم اس کے بارے میں یہ سمجھتے ہو کہ یہ سچا ہے ؟ یہ بات آپ نے تین مرتبہ دریافت کی ، تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ شخص اہل مدینہ کا سب سے بڑا عبادت گزار ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس بات سے بچ کے رہو کہ تمہاری یہ آواز اس تک پہنچے ورنہ تم اسے ہلاکت کا شکار کر دو گے یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالی اس امت سے آسان چیز سے راضی ہو جاتا ہے اور وہ ان کے لئے مشکل چیز کو ناپسند کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔