مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي جَبَلِ أُحُدٍ ، وَغَيْرِهِ مِنَ الْجِبَالِ ، وَغَيْرِهَا . باب: اُحد پہاڑ اور دیگر پہاڑوں اور دیگر چیزوں کا تذکرہ
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ : كُنْتُ أَرْمِي الْوَحْشَ ، وَأَصِيدُهَا ، وَأُهْدِي لَحْمَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَفَقَدَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " سَلَمَةُ أَيْنَ تَكُونُ ؟ " ، فَقُلْتُ : نَبْعُدُ عَلَى الصَّيْدِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنَّمَا أَصِيدُ بِصَدْرِ قَنَاةٍ مِنْ نَحْوِ بَيْتٍ ، فَقَالَ : " أَمَا لَوْ كُنْتُ تَصِيدُ بِالْعَقِيقِ لَسَبَقْتُكَ إِذَا ذَهَبْتَ وَتَلَقَّيْتُكَ إِذَا جِئْتَ ، فَإِنِّي أُحِبُّ الْعَقِيقَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں وحشی جانوروں کو تیر مارا کرتا تھا اور ان کا شکار کرتا تھا اور ان کا گوشت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحفے کے طور پر پیش کیا کرتا تھا ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے غیر موجود پایا تو دریافت کیا : سلمہ تم کہاں رہے میں نے عرض کی : میں شکار کے لئے دور چلا گیا تھا یا رسول اللہ ! میں بیت کی طرف قناۃ کے درمیان میں شکار کر رہا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم نے عقیق کی وادی میں شکار کیا ہوتا تو میں تم سے سبقت لے جاتا جب تم جاتے اور جب تم آتے تو میں تم سے ملاقات کرتا کیونکہ میں وادی عقیق کو پسند کرتا ہوں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔