کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اُحد پہاڑ اور دیگر پہاڑوں اور دیگر چیزوں کا تذکرہ
حدیث نمبر: 5909
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُحُدٌ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 5910
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ سُوَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : قَفَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ غَزْوَةِ خَيْبَرَ فَلَمَّا بَدَا لَهُ أُحُدٌ قَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ أُحُدٌ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَعُقْبَةُ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ جَرْحًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عقبہ بن سوید انصاری بیان کرتے ہیں : انہوں نے اپنے والد کو ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں ، یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر سے واپس آ رہے تھے جب احد پہاڑ آپ کے سامنے آیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” اللہ اکبر احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے عقبہ نامی راوی کا ذکر امام ابن ابوحاتم نے کیا ہے ۔ انہوں نے اس کے بارے میں کوئی جرح ذکر نہیں کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے عقبہ نامی راوی کا ذکر امام ابن ابوحاتم نے کیا ہے ۔ انہوں نے اس کے بارے میں کوئی جرح ذکر نہیں کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5911
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُحُدٌ رُكْنٌ مِنْ أَرْكَانِ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ وَالِدُ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اُحد ( پہاڑ ) جنت کے ارکان میں سے ایک رکن ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن جعفر ہے ، جو علی بن مدینی کا والد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن جعفر ہے ، جو علی بن مدینی کا والد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 5912
وَعَنْ أَبِي عَبْسِ بْنِ جَبْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِأُحُدٍ : " هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ ، وَهَذَا عَيْرٌ عَلَى جَبَلٍ يُبْغِضُنَا وَنُبْغِضُهُ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ أَبِي عَبْسٍ لَيَّنَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوعبس بن جبر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ کے بارے میں فرمایا : ” یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں یہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر ہو گا اور یہ عیر پہاڑ یہ ہم سے بغض رکھتا ہے اور ہم اس سے بغض رکھتے ہیں یہ جہنم کے ایک دروازے پر ہو گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالمجید بن ابوعبس ہے ، جسے امام ابوحاتم نے کمزور قرار دیا ہے اور اس کی سند میں ایسا شخص ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالمجید بن ابوعبس ہے ، جسے امام ابوحاتم نے کمزور قرار دیا ہے اور اس کی سند میں ایسا شخص ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 5913
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُحُدٌ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ فَإِذَا جِئْتُمُوهُ فَكُلُوا مِنْ شَجَرِهِ وَلَوْ مِنْ عُضَاهِهِ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ ، وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں ، جب تم اس پر آو ! تو اس کے درخت میں سے کچھ کھا لو ، خواہ اس کا کانٹے دار درخت ہی کھاؤ“ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن زید ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن زید ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 5914
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَرْبَعَةُ أَجْبَالٍ مِنْ أَجْبَالِ الْجَنَّةِ وَأَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ وَأَرْبَعَةُ مَلَاحِمَ مِنْ مَلَاحِمِ الْجَنَّةِ " ، قِيلَ : فَمَا الْأَجْبَالُ ؟ قَالَ : " أُحُدٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ جَبَلٌ مِنْ جِبَالِ الْجَنَّةِ ، وَالطُّورُ جَبَلٌ مِنْ جِبَالِ الْجَنَّةِ ، وَلُبْنَانُ جَبَلٌ مِنْ جِبَالِ الْجَنَّةِ ، وَالْأَنْهَارُ الْأَرْبَعَةُ : النِّيلُ ، وَالْفُرَاتُ ، وَسَيْحَانُ ، وَجَيْحَانُ ، وَالْمَلَاحِمُ : بَدْرٌ ، وَأُحُدٌ ، وَالْخَنْدَقُ ، وَحُنَيْنٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” چار پہاڑ جنت کے پہاڑ ہیں چار نہریں ( یا دریا ) جنت کی نہریں ہیں چار جنگیں جنت کی جنگیں ہیں عرض کی گئی پہاڑ کون سے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : احد وہ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں یہ جنت کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ ہے اور طور جنت کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ ہے اور لبنان جنت کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ ہے اور چار نہریں ( یا دریا ) یہ ہیں نیل ، فرات ، سیحان اور جیحان اور جنگیں ( یہ ہیں ) بدر ، احد ، خندق اور حنین “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 5915
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى عَلَى ذُبَابٍ . ¤ قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : بَلَغَنِي أَنَّ الذُّبَابَ جَبَلٌ بِالْحِجَازِ ، وَقَوْلُهُ : صَلَّى : أَيْ بَارَكَ عَلَيْهِ . ¤ قُلْتُ : قَالَ ابْنُ الْأَثِيرِ : إِنَّهُ جَبَلٌ بِالْمَدِينَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذباب ( نامی پہاڑ ) کے لئے دعائے رحمت کی تھی ۔ امام طبرانی بیان کرتے ہیں : مجھ تک
یہ روایت پہنچی ہے کہ ذباب حجاز میں موجود ایک پہاڑ ہے اور روایت کے یہ الفاظ ” اصلی “ سے مراد یہ ہے کہ آپ نے اس کے لئے برکت کی دعا کی تھی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ابن اثیر نے یہ کہا: ہے کہ یہ مدینہ منورہ میں موجود ایک پہاڑ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبد المہین بن عباس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت پہنچی ہے کہ ذباب حجاز میں موجود ایک پہاڑ ہے اور روایت کے یہ الفاظ ” اصلی “ سے مراد یہ ہے کہ آپ نے اس کے لئے برکت کی دعا کی تھی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ابن اثیر نے یہ کہا: ہے کہ یہ مدینہ منورہ میں موجود ایک پہاڑ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبد المہین بن عباس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 5916
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ : كُنْتُ أَرْمِي الْوَحْشَ ، وَأَصِيدُهَا ، وَأُهْدِي لَحْمَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَفَقَدَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " سَلَمَةُ أَيْنَ تَكُونُ ؟ " ، فَقُلْتُ : نَبْعُدُ عَلَى الصَّيْدِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنَّمَا أَصِيدُ بِصَدْرِ قَنَاةٍ مِنْ نَحْوِ بَيْتٍ ، فَقَالَ : " أَمَا لَوْ كُنْتُ تَصِيدُ بِالْعَقِيقِ لَسَبَقْتُكَ إِذَا ذَهَبْتَ وَتَلَقَّيْتُكَ إِذَا جِئْتَ ، فَإِنِّي أُحِبُّ الْعَقِيقَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں وحشی جانوروں کو تیر مارا کرتا تھا اور ان کا شکار کرتا تھا اور ان کا گوشت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحفے کے طور پر پیش کیا کرتا تھا ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے غیر موجود پایا تو دریافت کیا : سلمہ تم کہاں رہے میں نے عرض کی : میں شکار کے لئے دور چلا گیا تھا یا رسول اللہ ! میں بیت کی طرف قناۃ کے درمیان میں شکار کر رہا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم نے عقیق کی وادی میں شکار کیا ہوتا تو میں تم سے سبقت لے جاتا جب تم جاتے اور جب تم آتے تو میں تم سے ملاقات کرتا کیونکہ میں وادی عقیق کو پسند کرتا ہوں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 5917
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَتَانِي آتٍ ، وَأَنَا بِالْعَقِيقِ فَقَالَ : إِنَّكَ بِوَادٍ مُبَارَكٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ایک ( فرشتہ ) میرے پاس آیا میں اس وقت عقیق میں موجود تھا اس نے کہا: آپ مبارک وادی میں موجود ہیں “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5918
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ : أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " بُطْحَانُ عَلَى بِرْكَةٍ مِنْ بِرَكِ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں یہ بتایا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” بطحان ( نامی وادی ) جنت کے حوضوں میں سے ، ایک حوض پر ہو گی “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔