حدیث نمبر: 5876
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " قَالَ اللَّهُ لِدَاوُدَ : ابْنِ لِي بَيْتًا فِي الْأَرْضِ ، فَبَنَى دَاوُدُ بَيْتًا لِنَفْسِهِ قَبْلَ أَنْ يَبْنِيَ الْبَيْتَ الَّذِي أُمِرَ بِهِ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ : يَا دَاوُدُ نَصَبْتَ بَيْتَكَ قَبْلَ بَيْتِي ؟ قَالَ : أَيْ رَبِّ هَكَذَا [ قُلْتُ فِيمَا قَضَيْتُهُ ] مَنْ مَلَكَ اسْتَأْثَرَ ، ثُمَّ أَخَذَ فِي بِنَاءِ الْمَسْجِدِ ، فَلَمَّا تَمَّ السُّورُ سَقَطَ ثُلُثَاهُ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - [ فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ] أَنَّهُ لَا يَصْلُحُ أَنْ تَبْنِيَ لِي بَيْتًا ، قَالَ : أَيْ رَبِّ لِمَ ؟ قَالَ : لِمَا جَرَتْ عَلَى يَدَيْكَ مِنَ الدِّمَاءِ ، قَالَ : أَيْ رَبِّ أَوَلَمْ يَكُنْ ذَاكَ فِي هَوَاكَ وَمَحَبَّتِكَ ؟ قَالَ : بَلَى ، وَلَكِنَّهُمْ عِبَادِي ، وَأَنَا أَرْحَمُهُمْ ، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ فَأَوْحَى اللَّهُ تَعَالَى إِلَيْهِ : لَا تَحْزَنْ ، فَإِنِّي سَأَقْضِي بِنَاءَهُ عَلَى يَدِ ابْنِكَ سُلَيْمَانَ ، فَلَمَّا مَاتَ دَاوُدُ أَخَذَ سُلَيْمَانُ فِي بِنَائِهِ فَلَمَّا تَمَّ قَرَّبَ الْقَرَابِينَ وَذَبَحَ الذَّبَائِحَ وَجَمَعَ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَأَوْحَى اللَّهُ تَعَالَى إِلَيْهِ : قَدْ أَرَى سُرُورَكَ بِبُنْيَانِ بَيْتِي فَسَلْنِي أُعْطِكَ قَالَ : أَسْأَلُكَ ثَلَاثَ خِصَالٍ : حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَكُ ، وَمُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي وَمَنْ أَتَى هَذَا الْبَيْتَ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ [ فِيهِ ] خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَّا اثْنَتَانِ ، فَقَدْ أُعْطِيَهُمَا ، وَأَنَا أَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدْ أُعْطِيَ الثَّالِثَةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ ، وَهُوَ مُتَّهَمٌ بِالْوَضْعِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا رافع بن عمیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : اللہ تعالیٰ نے سیدنا داؤد علیہ السلام سے فرمایا تم میرے لئے زمین میں ایک گھر بنا دو سیدنا داؤد نے اس گھر کو بنانے سے پہلے جس کے بارے میں انہیں حکم دیا گیا تھا اپنے لئے ایک گھر بنا لیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی : اے داؤد ! تم نے میرا گھر بنانے سے پہلے اپنا گھر بنا لیا ہے ۔ انہوں نے عرض کی : اے میرے پروردگار اسی طرح ہوا ہے میں نے یہ سوچا کہ میں یہ فیصلہ دے چکا ہوں کہ جو مالک ہوتا ہے وہ ترجیح دیتا ہے پھر انہوں نے مسجد کی تعمیر شروع کی جب اس کی دیواریں مکمل ہو گئیں تو اس کا دو تہائی حصہ گر گیا انہوں نے اس بات کی شکایت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کی ، تو اللہ تعالیٰ نے وحی کی کہ یہ مناسب نہیں ہے کہ تم میرے لئے گھر بناؤ انہوں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! وہ کیوں ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کیونکہ تمہارے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے عرض کی : اے میرے پروردگار یہ سب کچھ تیری خواہش اور تیری محبت میں ہوا ہے پروردگار نے فرمایا ٹھیک ہے لیکن وہ میرے بندے تھے اور میں ان پر سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہوں سیدنا داؤد پر یہ بات گراں گزری تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف یہ وحی کی کہ تم غمگین نہ ہو میں عنقریب یہ فیصلہ دوں گا کہ اس کی تعمیر تمہارے بیٹے سلیمان کے ہاتھوں ہو گی جب سیدنا داؤد کا انتقال ہو گیا تو سیدنا سلیمان نے اس کی تعمیر شروع کی ، جب اس کی تعمیر مکمل ہوئی تو انہوں نے دیگیں تیار کروائیں جانور ذبح کروائے اور بنی اسرائیل کو اکٹھا کیا اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ میں نے اپنے گھر کی تعمیر کے حوالے سے تمہاری خوشی کو دیکھا ہے تم مجھ سے مانگو میں تمہیں عطا کروں گا انہوں نے عرض کی : میں تجھ سے تین چیزوں کا سوال کرتا ہوں فیصلہ دینے کی ایسی صلاحیت جو تیرے حکم کے مطابق ہو ایسی بادشاہی جو میرے بعد کسی اور کو نہ ملے اور جو شخص اس گھر میں آئے ، اور اس کا مقصد صرف یہاں نماز ادا کرنا ہو تو وہ اپنے گناہوں سے یوں نکل جائے جیسے اس دن تھا جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہاں تک دو چیزوں کا تعلق ہے ، تو وہ انہیں دے دی گئیں تھیں اور مجھے یہ امید ہے کہ تیسری چیز بھی انہیں دے دی گئی ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ایوب بن سوید رملی ہے ، جس پر روایت ایجاد کرنے کا الزام ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5876
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4477)»