حدیث نمبر: 5875
وَعَنْ ذِي الْأَصَابِعِ قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِ ابْتُلِينَا بَعْدَكَ بِالْبَقَاءِ أَيْنَ تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ فَلَعَلَّهُ أَنْ تَنْشُوءَ لَكُمْ ذُرِّيَّةٌ تَغْدُونَ إِلَى ذَلِكَ الْمَسْجِدِ وَتَرُوحُونَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ فِي زِيَادَاتِهِ عَلَى أَبِيهِ . وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ ، وَضَعَّفَهُ النَّاسُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ذو اصابع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ کے بعد ہمیں رہنے میں آزمائش کا شکار ہونا پڑے تو آپ ہمیں کہاں کے بارے میں حکم دیں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم پر لازم ہے کہ بیت المقدس چلے جاؤ ! ہو سکتا ہے وہاں تمہاری ایسی اولاد پیدا ہو جو صبح و شام اس مسجد کی طرف جائیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے عبداللہ نے اپنے والد کی ( ” مسند “ کی ) ” زیادات “ میں اسے نقل کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عطاء ہے ، جسے دحیم نے ثقہ قرار دیا ہے اور لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5875
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4237) اخرجه احمد فى المسند ( 67/4)»