مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّلَاةِ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَيْتِ الْمَقْدِسِ . باب: مسجد حرام ، مسجد نبوی اور بیت المقدس میں نماز ادا کرنا
وَعَنِ الْأَرْقَمِ أَنَّهُ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ : " أَيْنَ تُرِيدُ ؟ " ، قَالَ : أَرَدْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَاهُنَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى حَيِّزِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ : " مَا يُخْرِجُكَ إِلَيْهِ أَتِجَارَةٌ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : لَا ، وَلَكِنْ أَرَدْتُ الصَّلَاةَ [ فِيهِ ] ! قَالَ : " فَالصَّلَاةُ هَاهُنَا - وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى مَكَّةَ - خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الشَّامِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ فَقَالَ :سیدنا ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم کہاں کا ارادہ رکھتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس طرف کا ارادہ رکھتا ہوں ۔ انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے بیت المقدس کی سمت اشارہ کر کے یہ بات کہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کی طرف کیوں جا رہے ہو ؟ کیا تجارت کے سلسلے میں ؟ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : جی نہیں ! بلکہ میں وہاں نماز ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے مکہ کی طرف اشارہ کر کے ارشاد فرمایا : یہاں ایک نماز ادا کرنا اس جگہ ایک ہزار نمازوں سے بہتر ہے “ ۔ آپ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے شام کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : ( یعنی پھر اگلی روایت ہے ) ۔