مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّلَاةِ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَيْتِ الْمَقْدِسِ . باب: مسجد حرام ، مسجد نبوی اور بیت المقدس میں نماز ادا کرنا
عَنِ الْأَرْقَمِ - وَكَانَ بَدْرِيًّا ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوَى فِي دَارِهِ عِنْدَ الصَّفَا حَتَّى تَكَامَلُوا أَرْبَعِينَ رَجُلًا مُسْلِمِينَ ، وَكَانَ آخِرُهُمْ إِسْلَامًا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَلَمَّا كَانُوا أَرْبَعِينَ خَرَجُوا إِلَى الْمُشْرِكِينَ ، قَالَ : جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأُوَدِّعَهُ وَأَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيْنَ تُرِيدُ ؟ " ، قُلْتُ : أُرِيدُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ ، قَالَ : " وَمَا يُخْرِجُكَ إِلَيْهِ أَفِي تِجَارَةٍ ؟ " ، قُلْتُ : لَا ، وَلَكِنِّي أُصَلِّي فِيهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَلَاةٌ هَاهُنَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ ثَمَّ " . ¤ وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ فِيهِمْ يَحْيَى بْنُ عِمْرَانَ جَهِلَهُ أَبُو حَاتِمٍ . ¤سیدنا ارقم رضی اللہ عنہ جو ایک بدری صحابی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑی کے پاس موجود ان کے گھر میں کچھ عرصہ ٹھہرے رہے تھے یہاں تک کہ مسلمانوں کی تعداد چالیس ہو گئی جن میں اسلام قبول کرنے والے آخری فرد سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہیں جب ان حضرات کی تعداد چالیس ہو گئی تو یہ نکل کر مشرکین کی طرف گئے سیدنا ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( ایک دن ) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آپ سے رخصت چاہوں میرا ارادہ بیت المقدس کی طرف جانے کا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا : تم کہاں کا ارادہ رکھتے ہو ؟ میں نے عرض کی : میں بیت المقدس کا ارادہ رکھتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم اس طرف کیوں جانا چاہتے ہو ؟ کیا تجارت کے سلسلے میں ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! بلکہ میں وہاں نماز ادا کرنا چاہتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہاں ایک نماز ادا کرنا وہاں ایک ہزار نمازوں سے بہتر ہے “ ۔ امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں امام أحمد کے رجال میں ایک راوی یحیی بن عمران ہے ، جسے ابوحاتم نے مجبول قرار دیا ہے ۔