مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ قَوْلِهِ : لَا تَجْعَلُنَّ قَبْرِي وَثَنًا . باب: نبی اکرم ﷺ کے فرمان کا بیان :’’ تم میری قبر کو بت ہرگز نہ بنا دینا “
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يَجِيءُ إِلَى فُرْجَةٍ كَانَتْ عِنْدَ قَبْرِ الرَّسُولِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَدْخُلُ فِيهَا فَيَدْعُو فَنَهَاهُ فَقَالَ : أَلَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي عَنْ جَدِّي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَتَّخِذُوا قَبْرِي عِيدًا ، وَلَا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا ، فَإِنَّ تَسْلِيمَكُمْ يَبْلُغُنِي أَيْنَمَا كُنْتُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجَعْفَرِيُّ ، ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ جَرْحًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤امام زین العابدین کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے پاس موجود کشادہ جگہ کے پاس آیا اور اس میں داخل ہو کے دعا کرنے لگا تو امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے اسے منع کیا اور فرمایا : میں تمہیں وہ حدیث بیان نہ کروں جو میں نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے آپ نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم میری قبر کو عید نہ بنا لینا اور اپنے گھروں کو قبر نہ بنانا تم جہاں کہیں بھی ہو گے تمہار اسلام مجھ تک پہنچے گا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حفص بن ابراہیم جعفری ہے امام ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے ۔ انہوں نے اس کے بارے میں کوئی جرح ذکر نہیں کی ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔