حدیث نمبر: 5838
وَعَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحَاجَةٍ ثُمَّ عَرَضَ لِي ، وَأَنَا خَارِجٌ فِي طَرِيقِ الْمَدِينَةِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقْنَا حَتَّى صَعِدْنَا عَلَى أُحُدٍ فَأَقْبَلَ عَلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ : " وَيْلُ أُمِّهَا قَرْيَةٌ يَدَعُهَا أَهْلُهَا كَأَيْنَعَ مَا تَكُونُ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ يَأْكُلُ ثَمَرَهَا ؟ قَالَ : " عَافِيَةُ الطَّيْرِ وَالسِّبَاعِ ، وَلَا يَدْخُلُهَا الدَّجَّالُ كُلَّمَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَهَا يَلْقَاهُ بِكُلِّ نَقْبٍ مِنْ نِقَابِهَا مَلَكٌ فَيَصُدُّهُ " ، ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَابِ الْمَسْجِدِ فَإِذَا رَجُلٌ يُصَلِّي قَالَ : " يَقُولُهُ صَادِقًا ؟ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا فُلَانٌ أَكْثَرُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ صَلَاةً ، قَالَ : " لَا تُسْمِعْهُ فَتُهْلِكَهُ " ، قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ طَرَفًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لِهَذَا الْحَدِيثِ طَرِيقٌ رَوَاهَا أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام کے سلسلے میں بھیجا پھر آپ میرے سامنے آئے میں اس وقت مدینے کے راستے سے باہر نکل رہا تھا آپ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ہم چلتے ہوئے گئے یہاں تک کہ ہم احد پہاڑ پر چڑھ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف رخ کیا اور فرمایا : اس کی ماں برباد ہو یہ ایک ایسی بستی ہے ، جس کے رہنے والے اسے ایسی حالت میں چھوڑ جائیں گے ، جب اس کے پھل اتارنے کا وقت آ چکا ہو ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کا پھل کون کھائے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پرندے اور درندے ( کھائیں گے ) لیکن دجال اس میں داخل نہیں ہو سکے گا وہ جب بھی اس میں داخل ہونے کا ارادہ کرے گا تو اس کے راستے میں ایک فرشتہ آئے گا اور اسے روک دے گا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے یہاں تک کہ جب ہم مسجد کے دروازے پر پہنچے تو وہاں ایک شخص نماز ادا کر رہا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ سچے دل کے ساتھ یہ پڑھ رہا ہے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ا یہ فلاں شخص ہے ، جو مدینہ میں سب سے زیادہ نماز پڑھتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ بات اسے نہ سنا دینا ورنہ تم اسے ہلاکت کا شکار کر دو گے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے اس حدیث کا ایک طریق گزر چکا ہے ، جسے امام أحمد نے روایت کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5838
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط ( 2497) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (297/20) اخرجه احمد فى المسند (32/5)»